{1}…دنیا اور اس کے ایام پر حیف ہے، بے شک یہ دکھوں کے لئے پیدا کی گئی ہے۔
{2}…اس کے دکھ ایک لمحہ بھی ختم نہیں ہوتے چاہے اس میں کوئی بادشاہ ہے یا فقیرہے۔
{3}…اس پر اور اس کے عجیب حالات پر تعجب ہے، یہ لوگوں کی جان لیوا معشوقہ ہے۔
ایک اور شاعر کہتا ہے:
وقائلۃ اری الایام تعطی لئام الناس من رزق حثیث
وتمنع من لہ شرف وفضل فقلت لہا خذی اصل الحدیث
رأت حمل المکاسب من حرام فجادت بالخبیث علی الخبیث
{1}…میں دیکھتا ہوں کہ زمانہ بخیل ترین لوگوں کو بے اِنتہا مال دینے پر آمادہ رہتا ہے۔
{2}… اور صاحبِ عزت و فضیلت سے زمانہ دنیا کو روک دیتا ہے، میں نے اسے کہا: تم اصل بات میں غور کرو۔
{3}… خبیث حرام کمائی سے مال اکٹھا کرتے ہیں لہٰذا خبیث مال اور خبیث لوگوں میں جمع ہوتے ہیں۔
دوسرا شاعر کہتا ہے: ؎
سل الایام مافعلت بکسری وقیصر والقصور وسا کنیہا
اما استدعتہم للبین طرا فلم تدع الحلیم ولا السفیہا
{1}…زمانہ سے پوچھ تو نے کسریٰ، قیصر، ان کے محلات اور ان میں رہنے والوں سے کیا کیا؟
{2}…کیا ان سب نے تجھ سے جدائی کی اِستدعا کی تھی کہ تو نے کسی عقلمند اور کسی بے وقوف کو نہیں چھوڑا۔
کہتے ہیں کہ ایک بدوی کسی قبیلہ میں آیا، لوگوں نے اسے کھانا کھلایا اور وہ کھانا کھا کر ان کے خیمہ کے سائے میں لیٹ گیا، پھر انہوں نے خیمہ اکھیڑ لیا اور بدوی کو جب بھوک لگی تو اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ کہتا ہوا وہاں سے چل دیا: ؎
الا انما الدنیا کظل بنیتہ ولا بد یوما ان ظلک زائل
الا انما الدنیا مقیل لراکب قضی وطرا من منزل ثم ھجرا
{1}…باخبر ہوجاؤ یہ دنیا عمارت کے سایہ کی طرح ہے اور لامحالہ ایک دن اس کا سایہ زائل ہوجائے گا۔
{2}…بلاشبہہ دنیا سوار کے لئے قیلولہ کرنے کی جگہ ہے، اس نے اپنی حاجت پوری کی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔