Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
42 - 676
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہَِ وسَلَّم کا ارشادِ گرامی:
	اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے:  اَفْضَلُ الْجِھَادِ جِھَادُ النَّفْسِ۔(1) نفس کے ساتھ جہاد بہترین جہاد ہے۔ صحابہ کرام رِضْوَانُاللہ ِعَلَیْہم جب جہاد سے واپس آتے تو کہتے: ہم جہادِ اَصغر سے جہادِ اَکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں اور صحابہ نے نفس، شیطان اور خواہشات سے جہاد کو کفار کے ساتھ جہاد کرنے سے اس لئے اکبر اور عظیم کہا کہ نفس سے جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے اور کفار کے ساتھ کبھی کبھی ہوتا ہے۔ 
	دوسری وجہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ جہاد میں غازی اپنے دشمن کو سامنے دیکھتا رہتا ہے مگر شیطان نظر نہیں آتا ہے اور دکھائی دینے والے دشمن سے لڑائی بہ نسبت چھپ کر وار کرنے والے دشمن کے آسان ہوتی ہے۔ 
	ایک وجہ اور بھی ہے کہ کافر کے ساتھ غازی کی ہمدردیاں قطعی نہیں ہوتیں جبکہ شیطان کے ساتھ جہاد کرنے میں نفس اور خواہشات شیطان کی حامی قوتوں میں شمار ہوتے ہیں اس لئے یہ مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ 
	ایک بات اور بھی ہے کہ اگر غازی کافر کو قتل کردے تو مالِ غنیمت اور فتح حاصل کرتا ہے اور اگر شہید ہوجائے تو جنت کا مستحق بن جاتا ہے مگر اس جہادِ اکبر میں وہ شیطان کے قتل پر قادر نہیں اور اگر اسے شیطان قتل کردے یعنی راہِ راست سے بھٹکا دے تو بندہ عذاب الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے۔
	اسی لئے کہا گیا ہے کہ جنگ کے دن جس کا گھوڑا بھاگ پڑے وہ کافروں کے ہاتھ آجاتا ہے مگر جس کا اِیمان بھاگ جائے وہ غضب الٰہی میں پھنس جاتا ہے اور جو کافروں کے ہاتھ پھنس جاتا ہے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں نہیں ڈالی جاتیں ، اسے بھوکا، پیاسا اور ننگا نہیں کیا جاتا مگر جو غضب الٰہی کا مستحق ہوجائے اس کا منہ کالا کیا جاتا ہے، اس کی مشکیں کس کر زنجیریں ڈال دی جاتی ہیں ۔ اس کے پیروں میں آگ کی بیڑیاں ڈالی جاتی ہیں ۔ اس کا کھانا، پینا اور لباس سب جہنم کی آگ سے تیار ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب الکسب للشیبانی ص۱۸۴ وکنز العمال،کتاب الجہاد، قسم الاقوال، الباب السادس فی احکام القتلی۔۔۔الخ، ۲/۱۸۴، الجزء الرابع، الحدیث ۱۱۲۵۸