دنیا کے فریب سے گریز کے لئے یہ آیات عقلمند انسان کو بہت کچھ بصیرت سکھاتی ہیں ۔ ان عقلمندوں کی نیند اور بیداری کیسی عجیب ہے جو بے وقوفوں کی شب بیداری اور کوششوں پر رشک کرتے ہیں حالانکہ خود کچھ بھی نہیں کرپاتے۔
دانش مند کون؟
فرمانِ نبوی ہے کہ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد کے لئے عمل کئے اور احمق وہ ہے جس نے نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور اللہ تَعَالٰی سے ڈھیروں دنیاوی تمنائیں رکھیں ۔ (1)
شاعر کہتا ہے: ؎
ومن یحمد الدنیا لشیٔ یسرہ فسوف لعمری عن قلیل یلومہا
اذا ادبرت کانت علی المرء حسرۃ وان اقبلت کانت کثیرا ھمومہا
{1}…اور جو شخص کسی پسندیدہ چیز کی وجہ سے دنیا کی تعریف کرتا ہے مجھے زندگی کی قسم عنقریب وہ اسے بُرا بھلا کہے گا۔
{2}…جب دنیا چلی جاتی ہے تو انسان کے دل میں حسرت چھوڑ جاتی ہے اور جب آتی ہے تو بے شمار دکھ لے کر آتی ہے۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
تاللہ لو کانت الدنیا باجمعہا تبقی علینا ویاتی رزقہا رغدا
ماکان فی حق حر ان یذل لہا کیف وھی متاع یضمحل غدا
{1}…بخدا! اگر دنیا اپنی تمام تر مال و متاع کے باوجود ہمارے لئے پرہیز گاری کا نشان ہوتی اور لگاتار اس کا رزق آتا رہتا ۔
{2}…تب بھی کسی مردِ آزاد کے لئے اس کی طرف رجوع مناسب نہ ہوتا چہ جائیکہ یہ مال ہی ایسا بنایا گیا ہو جو کل ختم ہوجائے۔
ابن بسّام کہتا ہے: ؎
اف للد نیا و ایامہا فانہا للحزن مخلوقۃ
ھمومہا لا تنقضی ساعۃ عن ملک فیہا ولا سوقۃ
یاعجبا منہا ومن شانہا عدوۃ للناس معشوقۃ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب ذکر الموت۔۔۔الخ، ۴/۴۹۶، الحدیث۴۲۶۰