شاعر کہتا ہے: ؎
دع التہافت فی الدنیا و زینتھا ولا یغرنک الاکثار و الجشع
واقنع بما قسم الرحمن وارض بہ ان القناعۃ مال لیس ینقطع
وخل ویک فضول العیش اجمعہا فلیس فیہا اذا حققت منتفع
{1}…دنیا کی زینت اور اس کی گرفتاری کو ترک کردے اور تجھے بہت مالدار ہونے کی حرص و آرزو فریب میں مبتلا نہ کرے۔
{2}…اللہ کی تقسیم پر قناعت کر اور اس پر راضی ہوجا کیونکہ قناعت ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
{3}…تو اس تمام تر بیہودہ عیش کو ترک کردے کیونکہ جب تو اسے بہ غور دیکھے گا تو اس میں کوئی نفع نہیں پائے گا۔
بعض شعراء کا قول ہے:
اقنع بما تلقی بلا بلغۃ فلیس ینسی ربنا النملۃ
ان اقبل الدھر فقم قائما وان تولی مدبرا نم لہ
{1}…جو کچھ تجھے بغیر کوشش کے مل جاتا ہے اسی پر’’ قناعت‘‘ کرلے کہ ربِّ ذوالجلال تو حشرات الارض میں سے کسی کو بھی نہیں بھولتا۔ (رزق پہنچاتا ہے)
{2}…اگر زمانہ تجھے انعامات سے نوازے تو کھڑا ہوجا اور اگر وقت تجھ سے پیٹھ پھیرلے تو تو سوجا۔
داناؤں کا قول ہے کہ عزت خوبصورت کپڑوں کی مرہونِ منت نہیں ہے کیونکہ فراخ دستی میں بہترین لباس پہننا خوبصورت کپڑوں سے آراستہ ہونا آدمی کو مصروف کردیتا ہے یہاں تک کہ دنیاوی محبت کی وجہ سے وہ دینی اُمور کی پروا نہیں کرتا اور ایسا آدمی بہت ہی کم تکبر و خودبینی سے خالی ہوتا ہے۔
بعض شعراء کا کہنا ہے: ؎
رضیت من الدنیا بلقمۃ بائس ولبس عباء لا ارید سواھما
لانی رایت الدھر لیس بدائم فدھری وعمری فانیان کلاہما
{1}…میں دنیا سے سوکھی روٹی اور موٹے کپڑے پر راضی ہوں اور مجھے ان کے سوا کچھ نہیں چاہئے۔
{2}…کیونکہ میں نے زمانہ کو فانی دیکھا ہے لہٰذا میری عمر اور زمانہ دونوں فنا ہونیوالے ہیں ۔