اذ الرزق عنک نای فاصطبر ومنہ اقنع بالذی قد حصل
ولا تتعب النفس فی تحصیلہ فان کان ثم نصیب وصل
{1}…اگر رزق تجھ سے دور ہے تو صبر کر اور جو کچھ مل گیا ہے اسی پر قناعت کر۔
{2}…اپنے نفس کو اس (رزق) کے حاصل کرنے میں زحمت نہ دے، اگر وہ تیرا مقدر ہے تو کیا وہ مجھے مل جائے گا!
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
اذا اعطشتک اکف اللئام کفتک القناعۃ شبعا و ریا
فکن رجلا رجلہ فی الثری وھامۃ ھمتہ فی الثریا
{1}…جب تجھے بخیلوں کا تمول حریص بنائے تو اس وقت قناعت تجھے سیراب کرنے کیلئے کافی ہوگی۔
{2}…ایسا جوان بن جس کا پاؤں تحت ا لثریٰ میں ہو اور اس کے ارادوں کی چوٹی ثریا کو چھو رہی ہو۔
دوسرا شاعر کہتا ہے: ؎
یا طالب الرزق الھنی بقوۃ ھیھات انت بباطل مشغوف
رعت الاسود بقوۃ جیف الفلا ورعی الذ باب الشہد وھو ضعیف
{1}…اے آسانی سے حاصل ہونے والے رزق کو قوت سے تلاش کرنے والے! افسوس! تو جھوٹی محبت میں مبتلا ہے، غلط چیز میں دل لگا رہا ہے۔
{2}…شیر اپنی تمام تر قوت کے باوجود جنگل کے مردار کھاتے ہیں اور مکھیاں اپنی کمزوری کے باوجود شہد کھاتی ہیں ۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپ بھوک محسوس فرماتے تو اہل بیت کرام سے فرماتے کہ نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ اور فرماتے :مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور یہ آیت پڑھتے:
’’ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور اس پر صبر کر ‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ۔(پ۱۶، طٰہٰ:۱۳۲)…المعجم الاوسط ، ۱/۲۵۸، الحدیث ۸۸۶