مومن کی عزت لوگوں سے بے پروائی میں ہے، (1) قناعت میں آزادی اور عزت ہے۔(2)
اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس سے بے نیاز ہوجا جسے تو چاہتا ہے اس جیسا ہوجائیگا جس کی طرف حاجت لے کر جائیگا تو اس کا قیدی ہوگا اور جس پر چاہے اِحسان کر تو اس کا سردار ہو گا، تھوڑا مال جو تجھے کفایت کرے، اس زیادہ مال سے بہتر ہے جوتجھے گمراہ کر دے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ میں نے قناعت سے افضل کوئی مالداری نہیں دیکھی اور لالچ سے بڑھ کر تنگدستی نہیں دیکھی اور یہ اشعار پڑھے: ؎
افادتنی القناعۃ ثوب عز وای غنی اعز من القناعۃ
فصیرھا لنفسک راس مال وصیر بعدھا التقوی بضاعۃ
تجد ربحین تغنی عن خلیل وتنعم فی الجنان بصبر ساعۃ
{1}… قناعت نے جب مجھے عزت کا لباس دیا اور کونسا وہ تمول ہے جو قناعت سے زیادہ باعزت ہو۔
{2}…پس اسے اپنے نفس کے لئے اصل پونجی بنالے اور اس کے بعد پرہیزگاری کو ذخیرہ کرلے۔
{3}…تو دوگنا نفع پائے گا، دوست سے کچھ طلب کرنے سے بے نیاز ہوجائیگا اور ایک گھڑی صبر کے بدلے جنت میں انعام و اکرام پائے گا۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
قنع النفس بالکفاف والا طلبت منک فوق مایکفیہا
انما انت طول عمرک ما عمرت فی الساعۃ التی انت فیھا
{1}…اپنے جسم کو معمولی گزر بسر پر صبر کرنے والا بنا ورنہ یہ تجھ سے تیری ضرورت سے بڑھ کر مال و دولت مانگے گا۔
{2}… تیری زندگی کی مدت اتنی ہی ہے جتنی اس لمحہ کی مدت ہے جس میں تو سانس لے رہا ہے۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…شعب الایمان ، الحادی والعشرون من شعب الایمان۔۔۔الخ ،۳/۱۷۱، الحدیث ۳۲۴۸
2…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الیقین،۱/۲۳، الحدیث ۸ و الفردوس الاخبار،۵/۲۶۹،الحدیث۸۱۵۱