اس کی کھال اُدھڑ چکی تھی، وہ جس کے ساتھ بیٹھتا وہ اس کے پہلو سے اٹھ جاتا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنے پہلو میں بٹھایا ۔(1)
اور ارشاد فرمایا: مجھے وہ آدمی تعجب میں ڈالتا ہے جو اپنے ہاتھ میں ایسا زخم لئے پھرتا ہے جو لوگوں کے لئے باعث تکلیف ہے اور اس سے اس کا تکبر مٹ گیا ہے۔(2)
ایک دن حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا بات ہے میں تم میں عبادت کی شیرینی نہیں پاتا؟ صحابہ کرام نے عرض کی: حضور! عبادت کی شیرینی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تواضع!(3)
فرمانِ نبوی ہے کہ جب تم میری امت کے تواضع کرنے والوں کو دیکھو تو ان سے تواضع سے پیش آؤ اور متکبرین کو دیکھو تو ان سے تکبر کرو کیونکہ یہ ان کے لئے تحقیر اور ذلت ہے۔(4)
اسی موضوع پر یہ چند اشعار ہیں : ؎
تواضع تکن کالنجم لاح لناظر علی صفحات الماء وھو رفیع
ولا تک کالدخان یعلو بنفسہ علی طبقات الجو وھو وضیع
{1}…تواضع کر جو اس ستارے کی طرح ہو جو دیکھنے والے کو پانی کی سطح پر نظر آتا ہے، حالانکہوہ بہت بلندی پر ہوتا ہے۔
{2}…دھوئیں کی طرح نہ ہو جو فضا میں خود کو بلند کرتا ہے حالانکہ اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ ایک بیکار چیز ہے۔
فضائلِ قناعت:
قناعت کے متعلق جو کچھ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، اس سے بھی زیادہ اَحادیث و اَقوال قناعت کی فضیلت میں وارد ہوئے ہیں ، چنانچہ فرمانِ نبوی ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع والخمول،۳/ ۵۵۳، الحدیث ۸۱
2…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع والخمول،۳/۵۵۶، الحدیث۹۶
3…تذکرۃ الموضوعات للفتنی، ص۱۷۸و الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الکبیرۃ الرابعۃ، الکبر والعجب والخیلاء ، ۱/۱۴۰ و طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی ، ۶/۳۵۳
4…المرجع السابق