کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: رب کے ہاں تواضع اختیار کیجئے، تو میں نے عرض کیا کہ میں رسول عبد بننا چاہتا ہوں ۔ (1)
اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میں اس شخص کی نماز قبول فرماتا ہوں جو میری عظمت کے سامنے انکساری کرتا ہے، میری مخلوق پر تکبر نہیں کرتا اور اس کا دل مجھ سے خوفزدہ رہتا ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ کرم تقویٰ کا، عزت تواضع کا اور یقین بے نیازی کا نام ہے۔(2)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے کہ دنیا میں تواضع کرنے والوں کیلئے خوشخبری ہے، وہ قیامت کے دن منبروں پر ہوں گے، لوگوں میں اصلاح کرنے والوں کو خوشخبری ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن جنت الفردوس کے وارث ہوں گے اور دنیا میں اپنے دلوں کو پاک کرنے والوں کو بشارت ہو، یہی لوگ قیامت کے دن دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوں گے۔
بعض محدثینِ کرام سے مروی ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ تَعَالٰی نے کسی بندے کو اسلام کی ہدایت دی، اسے بہترین صورت دی اور اسے اس کے غیر پسندیدہ مقام سے دوررکھا اور ان سب نوازشات کے بعد اسے متواضع بنایا، اس سے ثابت ہواکہ تواضع اللہ کی پسندیدگی کی علامت ہے۔(3)
اللہ تَعَالٰی اپنے محبوب بندوں کو چار چیزیں عطا فرماتا ہے:
فرمانِ نبوی ہے کہ چار چیزیں ایسی ہیں جو اللہ اپنے محبوب بندوں کے سوا کسی کو عطا نہیں فرماتا :
{1}…خاموشی اور یہ پہلی عبادت ہے، (علاوہ ازیں ) {2}… توکل
{3}… تواضع اور {4}… دنیا سے کنارہ کشی۔(4)
مروی ہے کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کھانا کھلارہے تھے کہ ایک حبشی آیا جو چیچک میں مبتلا تھا اور جگہ جگہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع و الخمول، ۳/ ۵۵۴، الحدیث ۸۵
2…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع و الخمول، ۳/۵۵۹، الحدیث ۱۱۵
3…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع و الخمول، ۳/۵۶۰، الحدیث ۱۲۱
4…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع و الخمول، ۳/۵۶۱، الحدیث ۱۲۷