Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
412 - 676
 باب 57
فضیلتِ تواضع و قناعت
	نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ اللہ تَعَالٰی عفو و درگزر کے ذریعہ بندے کی عزت کو بڑھاتا ہے اور جو اللہ تَعَالٰی کی خوشنودی کی خاطر تواضع کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی اسے بلند فرماتا ہے۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے: کوئی آدمی ایسا نہیں مگر اُس کے ساتھ دوفرشتے ہیں اور انسان پر فہم و فراست کا نور ہوتا ہے جس سے وہ فرشتے اُس کے ساتھ رہتے ہیں ، پس اگر وہ انسان تکبر کرتا ہے تو وہ اس سے حکمت چھین لیتے ہیں اور کہتے ہیں :
	’’اے اللہ! اسے سرنگوں کر،‘‘ اور اگر وہ تواضع اور انکساری کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: ’’اے اللہ! اسے سربلندی عطا کر۔‘‘(2)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اس کے لئے خوشخبری ہے جس نے تونگری میں تواضع کی، جمع کردہ مال کو اچھے طریقے پر خرچ کیا، تنگدست اور مفلسوں پر مہربانی اور علماء و دانشمندوں سے میل جول رکھا۔(3)
	مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ گھر میں کھارہے تھے کہ دروازہ پر سائل آیا جسے ایک ایسی بیماری تھی کہ جس کی وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرتے تھے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اسے اندر آنے کی اجازت دی، جب وہ اندر آیا تو آپ نے اسے اپنے زانو مبارک پر بٹھایا اور فرمایا: کھانا کھاؤ، قریش کے ایک آدمی نے اسے بہت ناپسند کیا اور پھر وہ قریشی جوان اس جیسی بیماری میں مبتلا ہو کر مَرا۔(4)
	فرمانِ نبوی ہے کہ رب تعالیٰ نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا، ایک یہ کہ میں رسول عبد بنوں یا نبی فرشتہ بنوں ! میں نہیں سمجھ رہا تھا کہ میں کونسی بات پسند کروں ، فرشتوں میں جبریلِ امین (علیہ السلام) میرا دوست تھا، میں نے سراٹھا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسلم،کتاب البر۔۔۔الخ ، باب استحباب العفو و التواضع، ص ۱۳۹۷، الحدیث۶۹۔ (۲۵۸۸)
2…الموسوعۃ ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول ،۳/۵۵۱، الحدیث۷۵
3…المعجم الکبیر، ۵/۷۱، الحدیث۴۶۱۵
4…الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، التواضع والخمول،۳/۵۵۳، الحدیث ۸۲