Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
411 - 676
 ہوں : تیرے نفس نے کبھی تجھ سے یہ کہا ہے کہ قوم میں مجھ سے افضل کوئی نہیں ہے؟ اس نے کہا: بخدا ایسا ہوا ہے(1)اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے نورِ نبوت سے اس کے دل میں موجود تکبر کااثر اس کے چہرے پر دیکھ لیا۔
ارشاداتِ صحابہ:
	حضرتِ حارث بن جزء الزبیدی صحابی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد ہے کہ مجھے ہر وہ مضحکہ خیز قاری تعجب میں ڈالتا ہے جس سے تُو تو خند ہ پیشانی سے ملتا ہے اور وہ تجھے ناک بھَوں چڑھا کر ملتا ہے اور تجھ پر اپنے علم کا احسان جتاتا ہے، اللہ تَعَالٰی مسلمانوں سے ایسے قاریوں کوختم کرے۔
	حضرتِ ابو ذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی موجودگی میں ایک شخص سے تلخ کلامی کی اور اسے کہا: اے حبشی کے بیٹے! حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا: ’’اے ابوذر! صاع کو ہلکا کر! صاع کو ہلکا کر! کسی سفید کو سیاہ پر فضیلت نہیں ہے۔‘‘
	حضرتِ ابوذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی میں لیٹ گیا اور اس شخص سے کہا: اُٹھو اور میرا چہرہ روند ڈالو۔(2)
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ ایسے آدمی کو دیکھے جو خود بیٹھا ہوا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں ۔ 
	حضرتِ اَنس رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے کہ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِین کو کوئی شخص حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب نہ تھا، جب وہ حضور کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے کیونکہ اُنہیں علم تھا کہ آپ اِس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے۔
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بعض اوقات اپنے صحابہ کے ساتھ چلتے تو انہیں آگے چلنے کا حکم فرماتے اور خود ان کے درمیان چلتے، یہ اس لئے کرتے تاکہ دوسروں کو تعلیم ہو یا پھر قلبِ انور سے تکبر اور بڑائی کے شیطانی وساوس کے نکالنے کے لئے ایسا کرتے جیسا کہ نماز میں نیا کپڑا پہن کر پھر پرانا پہن لیتے، اس میں بھی یہی حکمت ہوتی تھی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المغنی عن حمل الاسفار للعراقی،۲/۹۶۰، الحدیث۳۵۰۲ و شعب الایمان، السابع والخسمون من شعب الإیمان، باب فی حسن الخلق، ۶/۳۰۲، الحدیث۸۲۵۴ و مسند البزار،۱۴/۶۰،الحدیث۷۵۱۰
2…شعب الایمان، الرابع و الثلاثون من شعب الإیمان، باب فی حفظ اللسان، ۴/۲۸۸، الحدیث۵۱۳۵ و تاریخ مدینہ دمشق ،۱۰/۴۶۴