Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
410 - 676
 خوفِ خدا کے مکمل دلائل لائے گئے ہیں ، چنانچہ اس کا خوف، شفقت اور انکساری بڑھتی ہے۔چنانچہ حضرتِ عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائیگا، کہیں گے کہ ہم نے قرآن پڑھا ہے، ہم سے زیادہ اچھا قاری اور عالم کون ہے؟ پھر آپ نے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے اُمت! وہ تم میں سے ہوں گے وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔(1)
	حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ متکبر علماء نہ بنو کہ تمہارا علم تمہاری جہالت سے آگے نہ بڑھے۔
حکایت:
	بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کے کثرتِ گناہ اور فتنہ و فساد کی وجہ سے اسے بنی اسرائیل کا خلیع کہا جاتا تھا جس کے معنٰی ہیں اپنے گناہوں سے بنی اسرائیل کو عاجز کرنے والا، ایک مرتبہ اس کا ایسے انسان سے گزر ہوا جسے بنی اسرائیل کا عابد کہا جاتا تھا، عابد کے سر پر بادل کا ٹکڑا سایہ کئے ہوئے تھا، جب اس گنہگار نے عابد کو دیکھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میں بنی اسرائیل کا بدبخت ترین آدمی ہوں اور یہ بنی اسرائیل کا عابد ہے، اگر میں اس کے پاس بیٹھ جاؤں تو شاید اللہ تَعَالٰی مجھ پر بھی رحم کردے، چنانچہ وہ عابد کے پاس جاکر بیٹھ گیا، عابد کے دل میں خیال آیا کہ میں بنی اسرائیل کا عابد ہوں اور یہ بنی اسرائیل کا بدبخت آدمی ہے، یہ میرے ساتھ کیسے بیٹھے گا! اسے بہت شرم محسوس ہوئی اور اس بدبخت سے کہا: یہاں سے اٹھ جاؤ! اس وقت اللہ تَعَالٰی نے بنی اسرائیل کے اس زمانے کے نبی پر وحی فرمائی کہ ان دونوں کو نئے سرے سے عبادت شروع کرنے کا حکم دیجئے کیونکہ میں نے بدبخت کو بخش دیا ہے اور عابد کے اعمال کو برباد کردیا ہے۔ 
	دوسری روایت ہے کہ بادل کا ٹکڑا عابد کے سر سے ہٹ کر بدبخت کے سر پر سایہ فگن ہوگیا۔ یہ بات تم پر اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کردے گی کہ اللہ تَعَالٰی بندوں کے دلوں کو دیکھتا ہے۔
	مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک شخص کا تذکرہ بڑے اچھے الفاظ میں کیا گیا، ایک مرتبہ وہی شخص نظر آیا تو صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ وہی شخص ہے جس کا ہم نے آپ کے سامنے تذکرہ کیا تھا۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: مجھے اس کے چہرے پر شیطان کا اثر نظر آتا ہے۔ اس شخص نے آکر سلام کیا اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے بیٹھ گیا، آپ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے اس شخص سے فرمایا کہ میں تجھے خدا کی قسم دے کر پوچھتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند ابی یعلی، ۶/۵، الحدیث ۶۶۶۸