Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
409 - 676
لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾  (1)
یہ قرآن مجید ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) کے بڑے لوگوں پر کیوں نہیں اتارا گیا۔
	حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ دوبستیوں کے بڑوں سے مراد ولید بن مغیرہ اور ابو مسعود ثقفی تھے، قریشِ مکہ نے ان کا ذکر اسلئے کیا تھا کہ وہ ظاہری مال و دولت میں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے آگے بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے کہا: محمد(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)  تو یتیم انسان ہیں اللہ تَعَالٰی نے انہیں کیسے ہمارے لئے بھیجا ہے!(2)اللہ تَعَالٰی نے فرمایا:
مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الْاَشْرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾ (3)		کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ۔ 
پھر اللہ تَعَالٰی نے ان کے جہنم میں داخل ہونے کے وقت ان کے اس تعجب کی خبر دی ہے جبکہ انہوں نے اہلِ صفہ کو جنہیں وہ حقیر سمجھتے تھے، جہنم میں نہ دیکھا تو پھر وہ کہیں گے کہ:
مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الْاَشْرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾ (4)
اور ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم شریروں سے گنا کرتے تھے۔
 	روایت ہے کہ اَشرار سے ان کی مراد حضرتِ عمار، بلال، صہیب اور مقداد رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ ہوں گے۔
	حضرتِ وہب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کہنا ہے کہ علم، آسمان سے نازل ہونے والی صاف، شفاف میٹھی بارش کی طرح ہے جسے پودے اپنی جڑوں کے ذریعے پی کر اپنے ذائقے بدلا کرتے ہیں ، چنانچہ کڑوے کی کڑواہٹ اور میٹھے کی مٹھاس بڑھتی ہے، اسی طرح لوگ علم کو اپنی ہمتوں اور خواہشات کے مطابق حاصل کرتے ہیں اور اس سے متکبر کا تکبر اور متواضع کا انکسار بڑھتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جس جاہل کا نصب العین اور مطمحِ نظر تکبر ہوتا ہے، جب وہ علم حاصل کرلیتا ہے تو اسے ایک ایسی چیز مل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اور زیادہ تکبر کرسکتا ہے اور وہ تکبر ہی میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب کوئی شخص بے علمی کے باوجود اللہ سے خائف رہتا ہے تو جب وہ علم حاصل کرتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂ کنزالایمان:کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر۔(پ۲۵، الزُّخْرُف : ۳۱)
2…اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذم الکبر۔۔۔الخ،۱۰/۲۷۸
3…ترجمۂ کنزالایمان:کیا تمہارے ربّ کی رحمت وہ بانٹتے ہیں۔  (پ۲۵، الزُّخْرُف:۳۲)
4… ترجمۂ کنزالایمان:ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں بُرا سمجھتے تھے۔  (پ۲۳، ص : ۶۲) …اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الکبر۔۔۔الخ ، ۱۰/۲۸۱