ایک متکبر نے ایک ایسے شخص کو جو’’ نیکی اور اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا‘‘ قتل کر دیا تو دوسرا شخص کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا: تم ان لوگوں کو قتل کرتے ہو جو تمہیں اچھی باتیں اور نیک عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں ، تب متکبر نے اسے بھی قتل کردیا جس نے اس کی مخالفت کی اور اسے بھی جس نے اسے نیکی کا حکم دیا تھا۔
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: انسان کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ جب اسے اللہ سے ڈرنے کو کہا جائے تو وہ یہ کہے کہ تم اپنا خیال رکھو!
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک شخص سے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا: میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تو طاقت نہیں رکھے گا۔ اس شخص کو دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے سے تکبر نے روک دیا تھا، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس شخص نے اس ہاتھ کو نہ اٹھایا (1)یعنی وہ شَل ہوگیا(اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس کے حق میں جو ارشاد فرمایا تھا وہ پورا ہوگیا)۔
روایت ہے کہ حضرتِ ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہُ عَنْہنے عرض کیا: یارسول اللہ! میں ایسا آدمی ہوں کہ خوب صورت لباس اور صاف ستھرا رہنے کو پسند کرتا ہوں ، کیا یہ تکبر ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ تکبر حق سے چشم پوشی کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ (2)
حضرت وہب بن منبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ جب حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرعون سے کہا: ایمان لا، تیرا مُلک تیرے ہی پاس رہے گا تو فرعون نے کہا: میں ہامان سے مشورہ کرلوں ، چنانچہ جب اس نے ہامان سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ اب تک تو تو رب رہا ہے، لوگ تیری عبادت کرتے رہے ہیں اور اب تو عبادت کرنے والا بندہ بننا چاہتا ہے؟ فرعون نے یہ مشورہ سنا تو تکبر کی وجہ سے اللہ کا بندہ بننے اور موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی پیروی کرنے سے انکار کردیا ،پس اللہ تَعَالٰی نے اسے غرق کردیا۔
اللہ تَعَالٰی نے قریش کے بارے میں فرمایا ہے کہ جب انہیں اسلام کی دعوت دی گئی تو وہ کہنے لگے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب الأشربۃ، باب آداب الطعام۔۔۔الخ ،ص ۱۱۱۸، الحدیث ۱۰۷۔ (۲۰۲۱)
2…المعجم الکبیر،۷/۹۷، الحدیث۶۴۷۹ و شعب الایمان ،الأربعون من شعب الإیمان، باب فی الملابس۔۔۔الخ، باب فی الصلوات، فصل فیمن کان متوسعا ثوبا۔۔۔الخ،۵/۱۶۰، الحدیث۶۱۹۲