باب 56
مذمتِ تکبر
تکبر کی مذمت اور بد انجامی کے متعلق قبل ازیں جو کچھ لکھا جاچکا ہے، اب اس میں کچھ اور اضافہ کیا جاتا ہے۔
تکبر وہ پہلا گناہ ہے جو ابلیس سے سرزد ہوا، پھر اللہ تَعَالٰی نے اس پر لعنت کی، اسے اس جنت سے جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے برابر ہے، نکال کرجہنم کے عذاب میں پھینک دیا۔
حدیث قدسی میں ہے: رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ تکبر میری چادراور بڑائی میرا لباس ہے، جو شخص ان دو میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اس کے دانت توڑ دوں گا اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔(1)
حدیث میں وارد ہے کہ متکبر، انسانوں کی شکل میں چیونٹیوں کی طرح قبروں سے اٹھیں گے، ہر طرف سے ذلت و رسوائی انہیں ڈھانپ لے گی اور انہیں دوزخیوں کی پیپ کی مٹی پلائی جائے گی۔(2)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن ان سے’’ کلام‘‘ نہیں کرے گا، ان کی طرف نہیں دیکھے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے: ’’بوڑھا زانی‘‘،’’ ظالم بادشاہ‘‘ اور’’ سرکش متکبر‘‘۔(3)
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ انہوں نے یہ آیت پڑھی:
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ (4)
اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کو عزت نے گناہ کے ساتھ پکڑا۔
پھر فرمایا: بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوداود،کتاب اللباس، باب ماجاء فی الکبر، ۴/۸۱،الحدیث۴۰۹۰
2…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب۴۷ (ت: ۱۱۲) ، ۴/۲۲۱،الحدیث۲۵۰۰
3…مسلم،کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم ، اسبال الازار۔۔۔الخ ،ص ۶۸، الحدیث۱۷۲۔ (۱۰۷)
4…ترجمۂ کنزالایمان:اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔(پ۲،البقرۃ:۲۰۶)
5…ترجمۂ کنزالایمان:ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲،البقرۃ:۱۵۶)