Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
406 - 676
یتیموں کا مال ناحق کھانا اور اس کا بدلہ:
	ابو یعلی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کی روایت ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے ایک ایسی قوم اٹھائی جائے گی جن کے منہ سے آگ بھڑک رہی ہوگی، عرض کی گئی: یارسول اللہ! وہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے فرمانِ الٰہی نہیں دیکھا:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ (1)
بے شک جو لوگ ظلم کے طور پر یتیموں کا مال کھاتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اپنے پیٹ میں آگ کھاتے ہیں ۔ 
	مسلم کی روایت سے معراج شریف کی حدیث میں ہے:
	 پس میں اچانک ایسے آدمیوں کے پاس آیا جن پر کچھ لوگ مقرر تھے جو ان کی داڑھیاں نوچ رہے تھے اور کچھ لوگ جہنم کے پتھر لاکر ان کے منہ میں ڈال رہے تھے جو ان کے پیچھے سے نکل رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون ہیں ؟ جبریل نے کہا: جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کھارہے ہیں ، پس اس کے سوا اور کچھ نہیں (2) (یہ وہی لوگ ہیں )۔
شب معراج نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  کا مالِ ناحق کھانے والوں پر گزر:
	قرطبی کی تفسیرمیں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: 
	معراج کی رات میں نے ایسی قوم کو دیکھا جن کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں جیسے تھے اور ان پر کچھ لوگ مقرر ہیں جو ان کے ہونٹ پکڑ کر ان کے منہ میں جہنم کے پتھر ڈال رہے ہیں جو اِن کے نیچے سے نکل رہے ہیں ، تب میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون ہیں ؟ جبریل بولے: یہ وہ ہیں جو ناحق یتیموں کا مال کھایا کرتے تھے۔ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میںنری آگ بھرتے ہیں۔ (پ ۴،النساء:۱۰)…مسند ابی یعلی، ۶/۲۷۲، الحدیث ۷۴۰۳
2…کتاب الکبائر الذھبی، الکبیرۃ الثالثۃ عشرۃ، ص۷۲ 
3…تفسیر قرطبی، پ۴، النساء، تحت الایۃ:۱۰، ۳/۳۹