بیوہ کے لئے مہربان شوہر کی طرح ہو جا اور جان لے کہ جیسا بوئے گا ویسا ہی کاٹے گا یعنی تو جیسا کرے گا ویسا ہی تجھ سے کیا جائے گا کیونکہ آخر ایک دن مرنا ہے، تیری اولاد کو یتیم اور بیوی کو بیوہ ہونا ہے۔
یتیموں کے مال کھانے اور ان پر ظلم کرنے کے متعلق بہت سی احادیث میں شدید وعیدیں آئی ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں لوگوں کو اس تباہ کن، بیہودہ اور ذلیل حرکت سے باز رکھنے کے لئے سخت تنبیہ کی گئی ہے۔
مسلم وغیرہ میں مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اے ابوذر! میں تجھے کمزور سمجھتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی کچھ پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں ، کبھی دو پر حکمران نہ بن اور مالِ یتیم کو اچھا نہ سمجھ۔(1)
بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا ہے کہ سات مہلک باتوں سے بچو، صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) وہ کونسی ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک بنانا، جادو، ناحق کسی کو قتل کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا وغیرہ۔(2)
حاکم نے سندِ صحیح کے ساتھ روایت کی ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: چار شخص ایسے ہیں کہ یہ اللہ کا عدل ہوگا کہ انہیں جنت میں نہ داخل کرے اور نہ ہی انہیں جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے دے، شرابی، سودخور، ناحق یتیموں کا مال کھانے والا اور والدین کا نافرمان۔(3)
صحیح ابن حبان میں روایت ہے کہ ان باتوں میں جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرتِ عمرو بن حزم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے توسط سے یمن والوں کوجو احکام بھیجے تھے، ان میں یہ بھی تھا کہ
قیامت کے دن اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا، ناحق کسی مومن کو قتل کرنا، جنگ کے دن میدان سے جہاد فی سبیل اللہ سے فرار، والدین کی نافرمانی، پاکباز عورتوں پر اتہام لگانا، جادو سیکھنا، سودکھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب الامارۃ، باب کراھۃ الامارۃ۔۔۔الخ ،ص ۱۰۱۵، الحدیث۱۷۔ (۱۸۲۶)
2…بخاری،کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالٰی ان الذین یأکلون۔۔۔ الخ ، ۲/۲۴۲، الحدیث۲۷۶۶
3…المستدرک للحاکم ،کتاب البیوع، باب ان اربی الربا۔۔۔الخ ، ۲/۳۳۸، الحدیث۲۳۰۷
4…صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ، باب کتب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۶/۱۸۱، الجزء الثامن ،الحدیث۶۵۲۵