Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
404 - 676
 دلائی ہے اور اِس ابتدائی آیت سے پہلے والی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ
وَلْیَخْشَ الَّذِیۡنَ لَوْ تَرَکُوۡا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ وَلْیَقُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿۹﴾ (1)
اور بے شک ڈریں وہ لوگ اس بات سے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں وہ ان پر خوف کھائیں اور چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور چاہئے کہ محکم بات کہیں ۔ 
	اِس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے اقوال کے برعکس جو اسے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنے اور اس جیسی اور باتوں پر محمول کرتے ہیں ، آئندہ آنے والی آیت سے ربط دیتے ہوئے یہ مراد ہے کہ جس شخص کی سرپرستی میں یتیم ہو وہ اس سے بہتر سلوک کرے، یہاں تک کہ اسے ایسے بلائے جیسے وہ اپنی اولاد کو بلاتا ہے، یعنی اسے ’’اے بیٹے‘‘ کہہ کر بلائے اور اس سے ایسی بھلائی، احسان اور نیک سلوک کرے اور اس کے مال کو اس طریقے سے خرچ کرے جیسا کہ وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی اولاد اور اپنے مال سے سلوک کی آرزو رکھتا ہے کیونکہ قیامت کے دن کا مالک ربِّ ذوالجلال اعمال کے مطابق جزا دیتا ہے یعنی جیسا کرو گے ویسا بھروگے جیسے تم دوسروں کے ساتھ سلوک کرو گے وہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔
	بسا اوقات انسان بے خوف ہو کر دوسرے کے مال اور اولاد میں تصرف کرتا ہے کہ اسے اچانک موت آلیتی ہے اور اللہ تَعَالٰی اسے اس کے مال، اولاد خاندان اور تمام تعلقات کی ویسی ہی جزادیتا ہے جیسا سلوک اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اگر اچھا سلوک کیا ہوتا ہے تو اچھی جزا ، اور اگر بُرا سلوک کیا ہوتا ہے تو بُری جزا ملتی ہے۔
	لہٰذا ہر عقلمند کو چاہئے کہ اگر اس کے دل میں دین کا خوف نہ ہو، تب بھی اسے اپنی اولاد اور مال کی خاطر خوف کرنا چاہئے اور یتیموں کے مال کو جو اس کی سرپرستی میں ہیں ، ایسے خرچ کرے جیسے وہ اپنی اولاد کے مال میں ان کے یتیم ہونے کی ان کے سرپرست سے خرچ کرنے کی امید رکھتا ہے۔
	اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی کہ اے داؤد! یتیم کے لئے مہربان باپ کی طرح اور مفلس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: اور ڈریں وہ لوگ کہ اگر اپنے بعد ناتوان اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں۔(پ۴، النساء:۹)