Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
403 - 676
باب 55
یتیموں پر ظلم سے ممانعت 
	فرمانِ الٰہی ہے: 
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾ (1)
بیشک جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور البتہ وہ جہنم میں جائیں گے۔
	حضرتِ قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ یہ آیت بنی غطفان کے ایک شخص کے حق میں نازل ہوئی، وہ اپنے چھوٹے یتیم بھتیجے کا سرپرست بنا اور اس کا تمام مال کھا گیا۔
	ناحق اور ظلم سے یہ مراد ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے حقیقت میں یتیموں پر ظلم کرتے ہیں ۔ اِس وعید میں وہ لوگ داخل نہیں ہیں جو کتب فقہ میں مندرجہ شرائط کے مطابق ان کے مال میں تصرف کرتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ 
	فرمانِ الٰہی ہے:
وَمَنۡ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنۡ کَانَ فَقِیۡرًا فَلْیَاۡکُلْ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ   (2)
اور جو غنی ہو اسے چاہئے کہ وہ بچے (یتیموں کے مال سے کچھ نہ لے) اور جو فقیر ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ کھائے۔
	یعنی وہ اپنی لازمی ضرورت کے مطابق لے لے یا بطور قرض یا اپنے کام کی اُجرت کے برابر کھائے یا وہ اِضطراب کی حالت میں ہو لہٰذا اگر بعد میں وہ فراخ دست ہو جائے تو یتیم کا کھایا ہوا مال واپس کرے وگرنہ یہ اس کے لئے حلال ہے۔
	اور اللہ تَعَالٰی نے یتیموں کے حقوق پرتاکید فرما کر اور ان سے زیادہ شفقت و اُلفت رکھنے کا ذکر فرما کر لوگوں کو توجہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے۔(پ۴،النساء:۱۰)
2…ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے اور جو حاجت مند ہووہ بقدر مناسب کھائے۔ (پ۴،النساء:۶)