Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
401 - 676
{4}…ایسا آدمی جو اُجرت پر مزدور لاتا ہے اور کام مکمل کروا کے اس کی اُجرت پوری نہیں دیتا،اور
{5} …وہ آدمی جو اپنی بیوی کا حق مہر دبا کر اس پر زیادتی کرتا ہے۔(1)
	حضرتِ عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا اور وہ کھڑے ہوگئے تو انہوں نے اللہ کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور کہا: اے اللہ! تو کس کے ساتھ ہوگا؟ ربِ جلیل نے فرمایا: مظلوم کے ساتھ یہاں تک کہ اسے اس کا حق دیا جائے۔
ایک بڑھیا پر ظلم کے باعث ہلاکت:
	وہب بن منبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں : کسی ظالم بادشاہ نے شاندار محل بنوایا، ایک مفلس بڑھیا آئی اور اس نے محل کے پہلو میں اپنی کٹیا بنالی جس میں وہ سکون سے رہتی تھی۔ ایک مرتبہ ظالم بادشاہ نے سوار ہوکر محل کے اردگرد چکر لگایا تو اسے بڑھیا کی کٹیا نظر آئی، اس نے پوچھا: یہ کس کی ہے؟ کہا گیا :یہ ایک بڑھیا ہے اور وہ اس میں رہتی ہے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اسے گرادو لہٰذا اسے گرادیا گیا، جب بڑھیا واپس آئی تو اس نے اپنی منہدم کٹیا دیکھ کر پوچھا کہ اسے کس نے گرادیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اسے بادشاہ نے دیکھا اور گرادیا،تب بڑھیا نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! اگر میں حاضر نہیں تھی تو تو کہاں تھا؟ اللہ تَعَالٰی نے جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا: محل کو اس کے رہنے والوں پر الٹ دو اور ایسا ہی کیا گیا۔
	کہتے ہیں کہ ایک برمکی امیر اور اس کے بیٹے کو جب ایک عباسی امیر المسلمین نے قید کردیا تو بیٹے نے کہا: اے ابا جان! ہم باعزت ہونے کے بعد قید کردئیے گئے ہیں ،باپ نے جواب دیا، بیٹے !مظلوموں کی فریادیں راتوں کو سفر کرتی رہیں ، ہم ان سے غافل رہے مگر اللہ تَعَالٰی ان سے غافل نہیں تھا۔
	یزید بن حکیم کہا کرتے تھے: میں کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوا اَلبتہ مجھے ایک شخص نے ڈرا دیا یعنی میں نے اس پر یہ جانتے ہوئے ظلم کیا کہ اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں ہے، وہ مجھ سے کہتا تھا کہ مجھے اللہ کافی ہے، اللہ تَعَالٰی تیرے اور میرے درمیان فیصلہ کرے گا۔
	حضرتِ ابی امامہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: ظالم قیامت کے دن آئے گا جب وہ پل صراط پر پہنچے گا تو اسے مظلوم مل جائے گا اور وہ اپنے ظلم کو خوب پہچان لے گا لہٰذا ظالم مظلوموں سے نجات نہیں پائیں گے یہاں تک کہ ظلم کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب الکبائر للذھبی، الکبیرۃ السادسۃ والعشرین، ص ۱۱۹