Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
400 - 676
	اسلافِ کرام میں سے بعض کا قول ہے کہ کمزوروں پر ظلم نہ کر، ورنہ تو بدترین طاقتوروں میں سے ہوجائے گا۔
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ ظالم کے ظلم کی وجہ سے جزر(سر خاب) اپنے آشیانے میں مرجاتا ہے۔
	کہتے ہیں : توریت میں مرقوم تھا کہ پل صراط کے اس طرف منادی ندا کرے گا: اے سرکش ظالمو! اے بدبخت ظالمو! بیشک اللہ تَعَالٰی نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ آج ظالم کا ظلم پل صراط سے نہیں گزرے گا (ظالم پل صراط سے نہیں گزر سکیں گے)۔
	حضرتِ جابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب مہاجرین حبشہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی خدمت میں واپس لوٹ کر آگئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تم نے حبشہ میں کوئی عجیب بات دیکھی ہو تو مجھے بتلاؤ! حضرتِ قتیبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ انہی مہاجرین میں سے تھے، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میری طرف توجہ فرمائیے! میں بتلاتا ہوں : ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ حبشہ کی ایک بوڑھی عورت سر پر پانی کا برتن رکھے جارہی تھی، جب وہ ایک حبشی جوان کے قریب سے گزری تو اس نے کھڑے ہوکر بڑھیا کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکّا دیا جس سے بڑھیا گھٹنوں کے بَل جاگری اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، وہ اٹھی اور جوان کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگی: اے غدار! تو عنقریب جان لے گا جبکہ اللہ تَعَالٰی عدالت فرمائے گا اور پہلے پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں آدمی کے اَعمال کی گواہی دیں گے۔ اللہ کے ہاں تو بھی اپنا اور میرا فیصلہ کل سن لے گا۔ راوی کہتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی ایسی قوم کو کیسے فلاح دے گا جو طاقتوروں سے کمزوروں کو بدلہ نہیں دلاسکتی۔(1)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے: آپ نے فرمایا: پانچ آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ تَعَالٰی غضبناک ہوتا ہے، اگر وہ چاہے گا تو دنیا میں انہیں اپنے غضب کا نشانہ بنائے گا ورنہ (آخرت میں ) انہیں جہنم میں ڈالے گا: 
{1}…حاکم قوم جو خود تو لوگوں سے اپنے حقوق لے لیتا ہے مگر انہیں ان کے حقوق نہیں دیتا اور ان سے ظلم کو دفع نہیں کرتا۔ {2}…قوم کا قائد، لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں اور وہ طاقتور اور کمزور کے درمیان فیصلہ نہیں کرسکتا اور خواہشاتِ نفسانی کے مطابق گفتگو کرتا ہے۔حدیث میں حضرت قتیبہ کے بجائے صحابیہ کا ذکرہے
{3}…گھر کا سربراہ جو اپنے گھر والوں اور اولاد کو اللہ کی اطاعت کا حکم نہیں دیتا اور انہیں دینی امور کی تعلیم نہیں دیتا۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ،کتاب الفتن، باب الامربالمعروف۔۔۔الخ ،۴/۳۶۲، الحدیث۴۰۱۰ بذکر صحابیۃ مکان قتیبۃ