Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
40 - 676
حکایت:
	حضرت ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہکہتے ہیں میں لکام کے پہاڑ میں تھا، وہاں میں نے انار دیکھے اور میرے دل میں انہیں کھانے کی خواہش ہوئی چنانچہ میں نے ایک انار اٹھا کر اسے دوٹکڑے کیا مگر وہ ترش نکلا لہٰذا میں نے اسے پھینک دیا اور چل پڑا چند قدم آگے جاکر میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو زمین پر پڑا ہوا تھا اور اس پر بِھڑیں چمٹی ہوئی تھیں ۔ 
	میں نے اسے سلام کہا اور اس شخص نے میرا نام لیکر سلام کا جواب دیا میں نے حیرت سے پوچھا: آپ مجھے کیسے پہچانتے ہیں ؟ اس بندۂ خدا نے جواب دیا: جو اپنے خدا کو پہچان لیتا ہے پھر اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔ میں نے کہا: تب تو تمہارا بارگاہِ اِیزدی میں بڑا مقام ہے، تم یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ جو تمہیں چمٹی ہوئی ہیں تم سے دور ہو جائیں ۔ 
	 اس نے کہا میں جانتا ہوں اللہ کے ہاں تمہارا بھی بڑا مقام ہے، تم نے یہ دعا کیوں نہ مانگی کہ اللہ تَعَالٰی تجھے انار کھانے کی خواہش سے بچا لیتا کیونکہ بِھڑوں کی تکلیف دنیاوی عذاب ہے مگر انار کھانے کی پاداش اُخروی عذاب ہے، یہ بِھڑیں تو انسان کے جسم پر ڈَستی ہیں مگر خواہشات انسان کے دل کو ڈَس لیتی ہیں ۔ میں یہ نصیحت آموز گفتگو سن کر وہاں سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
	شہوات، بادشاہوں کو فقیر اور صبر فقیروں کو بادشاہ بنادیتا ہے۔ آپ نے حضرتِ یوسف عَلَیْہِ السَّلَام اور زُلَیخا کا قصہ نہیں پڑھا! یوسف عَلَیْہِ السَّلَام صبر کی بدولت مصر کے بادشاہ ہوئے اور زُلَیخا خواہشات کی وجہ سے عاجز اور رُسوا ہوئی اور بصارَت سے محروم عجوزہ (بُڑھیا) بن گئی اس لئے کہ زلیخا نے حضرتِ یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی محبت میں صبر نہیں کیا تھا۔
حضرتِ ابوالحسن رَازی نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا 
	حضرت ابوالحسن رازی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو ان کے انتقال کے دوسال بعد خواب میں اس حال میں دیکھا کہ ان کے جسم پر جہنم کے قیر(1)کا لباس تھا۔ میں نے پوچھا ابا جان! یہ کیا ہوا؟ میں آپ کو جہنمیوں کے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تارکول