پاس آیا اور کہا: میں نے ننانوے بے گناہوں کو قتل کیا ہے، کیا تم میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ پاتے ہو؟ اس آدمی نے کہا: نہیں ، چنانچہ اس لئے اسے بھی قتل کردیا اور دوسرے آدمی سے کہا کہ میں نے سَو بے گناہوں کو قتل کیا ہے، کیا میرے لئے توبہ کا کوئی طریقہ ہے؟ اس نے کہا: اگر میں یہ کہوں کہ اللہ تَعَالٰی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول نہیں کرتا تو یہ سراسر جھوٹ ہے، دیکھو فلاں مقام پر ایک عبادت گزار جماعت رہتی ہے، تم بھی وہاں جاؤ او ران کے ساتھ رہ کر عبادت کرو، چنانچہ وہ ان کی طرف چل پڑا اور راستے ہی میں مرگیا۔
اس پر عذاب اور رحمت کے فرشتوں نے جھگڑا کیا، اللہ تَعَالٰی نے ان کے پاس فرشتہ بھیجا جس نے کہا کہ تم ان دونوں جگہوں کی زمین ناپ لو، جس زمین سے یہ قریب ہوگا اسی کا ہو گا، جب زمین ناپی گئی تو اسے چیونٹی کے برابر عبادت گزار بندوں کی بستی سے قریب پایا گیا لہٰذا اسے بخش دیا گیا۔(1)
طبرانی کی ایک اور روایت میں ہے کہ پھر وہ دوسرے راہب کے پاس آیا اور کہا: میں نے سو قتل کئے ہیں ، کیا تو میرے لئے توبہ کا راستہ پاتا ہے؟ راہب نے کہا: تم اپنے آپ پر بہت ظلم کرچ کے ہو میں کچھ نہیں جانتا لیکن قریب ہی دوبستیاں ہیں ، ایک کو نصرہ اور دوسری کو کفرہ کہا جاتا ہے، نصرہ والے ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں ، اس میں کوئی گنہگار نہیں رہ سکتا اور کفرہ والے ہمیشہ گناہوں میں مگن رہتے ہیں ، وہاں ان کے سوا اور کوئی نہیں رہتا، تم نصرہ میں جاؤ، اگر تم وہاں ثابت قدمی سے نیک عمل کرتے رہے تو تمہاری توبہ کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہوگا چنانچہ وہ نصرہ کا ارادہ کر کے روانہ ہوگیا۔
جب وہ دونوں بستیوں کے درمیان پہنچا تو اسے موت نے آلیا، فرشتوں نے اللہ تَعَالٰی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا تو ربِ جلیل نے فرمایا کہ دیکھو یہ کونسی بستی سے قریب ہے، جس بستی سے قریب ہو، اسے انہی لوگوں میں سے لکھ دو، پس فرشتوں نے اسے چیونٹی کے برابر نصرہ سے قریب پایا لہٰذا اسے نصرہ والوں میں سے لکھ دیا گیا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۱۹/۳۶۹،الحدیث ۸۶۷
2…الترغیب والترھیب،کتاب التوبۃ والزھد، الترغیب فی التوبۃ۔۔۔الخ ۴/۱۴، الحدیث ۴۸۲۷