پتہ دیا چنانچہ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے کہا: میں نے ننانوے قتل کئے ہیں ، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ راہب بولا: نہیں ! اور اس آدمی نے راہب کو بھی قتل کر کے سو قتل پورے کرلئے، پھر اس نے دوبارہ دنیا کے سب سے بڑے عالم کی تلاش شروع کی تو اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا، وہ عالم کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے سو قتل کئے ہیں ، کیا اس کے لئے تو بہ ممکن ہے؟ عالم نے کہا: ہاں ! تیرے اور تیری توبہ کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے! فلاں فلاں جگہ جاؤ وہاں اللہ تَعَالٰی کے نیک، عبادت گزار لوگ رہتے ہیں ، تم بھی وہیں جاکر ان کے ساتھ عبادت کرو اور پھر اپنے وطن واپس نہ آنا کیونکہ یہ بہت بُری جگہ ہے۔
چنانچہ وہ چل پڑا، جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آگئی،لہٰذا اس کے متعلق رحمت اور عذاب کے فرشتوں کا آپس میں جھگڑا ہوگیا، رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ تائب ہوکر اپنا دل رحمتِ خداوندی سے لگائے آرہا تھا، عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی، تب ان کے پاس آدمی کی شکل میں ایک فرشتہ آیا جسے انہوں نے اپنا حکم تسلیم کرلیا، اس فرشتہ نے کہا: تم زمین ناپ لو، وہ جس بستی کے قریب تھا وہ انہی میں شمار ہوگا چنانچہ انہوں نے زمین ناپی اور وہ نیکوں کی بستی کے قریب نکلا، لہٰذا اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ (1)
ایک روایت میں ہے کہ وہ ایک بالشت نیکوں کی بستی سے قریب تھا لہٰذا اسے بھی نیکوں میں سے کردیا گیا۔(2)
دوسری روایت ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے بروں کی بستی کی زمین کی طرف وحی فرمائی، اس سے کہا: دور ہوجا اور نیکوں کی بستی کی زمین سے کہا: تو قریب ہوجا اور فرمایا: ان بستیوں کا فاصلہ ناپوتو فرشتوں نے اسے ایک بالشت نیکوں کی بستی سے قریب پایا اور اسے بخش دیا گیا۔(3)
حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ہمیں یہ بتلایا تھا کہ جب عزرائیل آیاتو اس شخص نے اپنا سینہ نیکوں کی طرف کردیا۔
طبرانی نے سندِ جید کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے بہت زیادہ گناہ کئے اور وہ ایک شخص کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل۔۔۔الخ ، ص ۱۴۷۹، الحدیث ۴۶۔ (۲۷۶۶)
2…المرجع السابق، الحدیث ۴۷۔ (۲۷۶۶)
3…بخاری ،کتاب احادیث الانبیائ، باب ۵۶،۲/۴۶۶، الحدیث۳۴۷۰