ترمذی نے بسند حسن، صحیح ابن حبان اور بسندِ صحیح حاکم نے حضرتِ ابن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی گفتگو سنتا تھا، آپ ایک یا دومرتبہ (اور انہوں نے سات مرتبہ تک گِنا) سے زیادہ کسی بات کو نہیں دہرایا کرتے تھے مگر یہ بات میں نے آپ سے اس سے بھی زیادہ بار سنی ہے، آپ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں ایک کِفْل نامی شخص تھا، وہ گناہوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ ایک عورت کے پاس گیا اور اسے ساٹھ دینار دے کر گناہ پر رضا مند کرلیا، چنانچہ جب وہ برائی کے انتہائی قریب ہوا تو وہ عورت کا نپنے اور رونے لگی، اس نے عورت سے کہا: کیا تم مجھے اچھا نہیں سمجھتی ہو؟ وہ بولی نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ میں نے ایسی برائی کبھی نہیں کی ہے اور آج میں کسی ضرورت سے مجبور ہوکر یہ کررہی ہوں ۔ اس نے یہ بات سن کر کہا: واقعی تم نے اس حالت میں بھی ایسی برائی نہیں کی ہے یہ دینار لے جاؤ، میں نے تمہیں بخش دیئے ہیں اور خدا کی قسم! میں آئندہ کبھی بھی گناہ نہیں کروں گا۔ پھر وہ اسی رات مرگیا، صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ اللہ تَعَالٰی نے کِفْل کو بخش دیا ہے۔(1)
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے صحیح حدیث مروی ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: دوبستیاں تھیں ، ایک نیکوں کی اور دوسری بروں کی، ایک مرتبہ بروں کی بستی سے ایک آدمی نیکوں کی بستی کی طرف جانے کے ارادے سے نکلا مگر اسے راستہ میں مشیتِ الٰہی کے مطابق موت آگئی چنانچہ اس شخص کے بارے میں شیطان اور فرشتۂ رحمت کا جھگڑا ہوگیا، شیطان بولا اس نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی لہٰذا یہ میرا ہے، فرشتۂ رحمت نے کہا کہ یہ تو توبہ کے ارادے سے جارہا تھا، اللہ تَعَالٰی نے فیصلہ فرمایا کہ تم دیکھو، یہ کونسی بستی سے زیادہ قریب ہے؟ انہوں نے اسے بالشت نیکوں کی بستی سے قریب پایا لہٰذا اللہ تَعَالٰی نے اسے بخش دیا۔
معمر کی روایت ہے کہ میں نے کہنے والے سے سنا ہے، اللہ تَعَالٰی نے نیکوں کی بستی کو اس کے قریب کردیا۔(2)
قاتل، ارادئہ توبہ کی بدولت نجات پاگیا:
بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس نے دنیا کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھ گچھ کی تو لوگوں نے اسے ایک راہب کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۴۸۔ (ت:۱۱۳)، ۴/۲۲۳، الحدیث۲۵۰۴
2…المعجم الکبیر، ۹/۱۷۱، الحدیث۸۸۵۱