Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
394 - 676
قیامت میں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور اس کے گناہوں کی کوئی گواہی دینے والا نہیں ہو گا۔(1)
	اَصبہانی کی ایک روایت ہے کہ گناہوں پر شرمسار اللہ تَعَالٰی کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے اور متکبر اللہ تَعَالٰی کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے، اے اللہ کے بندو! جان لو کہ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کو پائے گا اور دنیا سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ وہ اپنے اچھے اور بُرے اَعمال کودیکھ لے گا اور اعمال کادارومدار ان کے خاتمہ پر ہے، اور رات، دن تمہاری سواریاں ہیں ان پر سوار ہوکر آخرت کی طرف اچھا سفر کرو، توبہ میں تاخیر سے بچو کیونکہ موت اچانک آتی ہے، تم میں سے کوئی اللہ تَعَالٰی کے حلم کی وجہ سے سست نہ ہوجائے کیونکہ آگ تم سے تمہارے جوتے سے بھی قریب ہے، پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ آیت پڑھی:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (2)
پس جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھے گا۔(3)
طبرانی یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ (4)
	بیہقی نے یہ حدیث ایک دوسرے طریق سے نقل کی ہے، اس میں یہ لفظ زیادہ ہیں : گناہوں سے استغفار کرنے والا جو برابر گناہ بھی کئے جارہا ہے، ایسا ہے جیسے وہ رب تعالیٰ سے مذاق کررہا ہو۔(5)
	  صحیح ابن حبان اور حاکم کی روایت ہے کہ گناہوں پر شرمندگی توبہ ہے یعنی شرمندگی توبہ کا اہم رکن ہے جیسے حج میں وقوفِ عرفات ہے۔(6)
	توبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف گناہوں کے خراب ہونے اوراللہ تَعَالٰی کے عذاب سے ڈرتے ہوئے کی جائے ، اپنی بے عزتی کے ڈر سے یا روپے پیسے کے ضائع ہونے کی وجہ سے نہ ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تاریخ مدینۃ دمشق ،۱۴/۱۷
2…الترغیب و الترہیب،کتاب التوبۃ و الزہد، الترغیب فی التوبۃ۔۔۔الخ، ۴/۹،الحدیث ۴۸۱۶
3…ترجمۂکنزالایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔ (پ۳۰، الزِلْزَال:۷،۸)
4…المعجم الکبیر،۱۰/۱۵۰، الحدیث۱۰۲۸۱
5…شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔الخ ، ۵/۴۳۶، الحدیث ۷۱۷۸
6…المستدرک للحاکم ،کتاب التوبۃ والانابۃ، باب الندم توبۃ، ۵/۳۴۶، الحدیث۷۶۸۶