محدثین کی ایک جماعت نے یہ صحیح روایت نقل کی ہے کہ مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلے، گناہ سے رک جائے اور استغفار کرے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ گناہ کرتا رہتا ہے تو اس کا دل سیاہ نقطوں میں چھپ جاتا ہے، (1)اس کا ذکر اللہ تَعَالٰی نے کتابِ مقدس میں فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ (2)
ہرگز نہیں یہ بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال نے زنگ چڑھا دیا ہے۔
ترمذی کی روایت ہے کہ اللہ تَعَالٰی بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک کہ اس کی روح گلے تک نہ پہنچ جائے۔(3)
رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حضرتِ معاذ کو نصیحتیں :
طبرانی اور بیہقی نے حضرتِ معاذ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے میرا ہاتھ پکڑا اور کچھ دور چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ! میں تجھے اللہ سے ڈرنے، سچی بات کرنے، وعدہ پورا کرنے، اَمانت کی ادائیگی، خیانت سے پرہیز، یتیم پر رحم، ہمسائے کی حفاظت، غصہ ضبط کرنے، نرمی گفتار، بہت سلام کرنے، حاکم کی اِطاعت، قرآن میں غوروفکر، آخرت کو محبوب رکھنے، حساب سے ڈرنے، تھوڑی اُمیدوں اور بہترین عمل کی وصیت کرتا ہوں اور مسلمان کو گالی دینے، جھوٹے کی تصدیق کرنے، سچے کو جھٹلانے، حاکمِ عادل کی نافرمانی کرنے اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے سے تجھے روکتا ہوں ، اے معاذ! اللہ تَعَالٰی کا ہر درخت اور پتھر کے پاس ذکر کر اور ہر پوشیدہ گناہ کی چھپ کر توبہ کر اور ہر ظاہری گناہ کی ظاہر میں توبہ کر۔(4)
تائب کا گناہ ہر جگہ سے مٹا دیا جاتا ہے :
اصبہانی کی روایت ہے کہ جب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کے محافظ فرشتوں کو، اس کے اَعضائے بدن کو اور زمین کے اس ٹکڑے کو جس پر اس نے گناہ کیا ہے اس بندے کا گناہ بھلا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ ،کتاب الزھد، باب ذکر الذنوب ،۴/۴۸۸، الحدیث۴۲۴۴
2…ترجمۂکنزالایمان:کوئی نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ (پ۳۰، المطففین : ۱۴)
3…ترمذی،کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ۔۔۔الخ ، ۵/۳۱۷، الحدیث ۳۵۴۸
4…الزھد الکبیر، ص ۳۴۷، الحدیث ۹۵۶