Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
392 - 676
	حاکم کی صحیح روایت ہے کہ یہ بات انسان کی سعادت مندی کی علامت ہے کہ اس کی زندگی طویل ہو اور اللہ تَعَالٰی اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔(1)
	ترمذی،ابن ماجہ اور حاکم کی روایت ہے کہ ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں ۔ (2)
ایک خطا کار اور اس کی معافی:
	بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا: اے اللہ! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، میرا یہ گناہ معاف فرمادے، رب نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا خدا ہے جو گناہ پر مواخذہ کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے لہٰذا اس کا گناہ معاف کردیا، پھر وہ انسان جتنی مدت اللہ نے چاہا گناہوں سے رکا رہا، پھر اس نے دوسرا گناہ کرلیا اور کہا: اے اللہ! میں نے اور گناہ کرلیا، اسے معاف فرمادے، تب ربِ جلیل نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا خدا گناہوں کو بخش دیتا ہے اور گناہوں کے سبب پکڑ لیتا ہے لہٰذا اللہ نے اس کا گناہ معاف فرمادیا پھر جتنے دن اللہ تَعَالٰی نے چاہا وہ رکا رہا تاآنکہ اس نے اور گناہ کر لیا اور عرض کیا کہ یااللہ! میں نے پھر گناہ کیا ہے، میرے اس گناہ کو معاف فرمادے، رب نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا خدا گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے اور ان پر مواخذہ بھی کرتا ہے، اسی سبب اس کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے اور رب فرماتا ہے :میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، جو چاہے عمل کرے۔(3)
	منذری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: ’’جو چاہے عمل کرے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ  علیم و خبیر ہے، اسے علم ہے کہ جب بھی میرا یہ بندہ گناہ کرے گا فوراً ہی گناہ سے توبہ کرلے گا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ جونہی گناہ کرتا ہے توبہ کرلیتا ہے اور جب اس کا یہ طریقہ ہو کہ گناہ کرتے ہی دل کی گہرائیوں سے توبہ کرلے تو ایسی صورت میں اسے گناہ نقصان نہیں دیں گے، اس کا یہ معنٰی نہیں ہے کہ وہ زبان سے توبہ کرے مگر دل سے گناہوں سے اظہارِ نفرت نہ کرے اور بار بار گناہ کرنے لگ جائے کیونکہ یہ جھوٹوں کی توبہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المستدرک للحاکم ،کتاب التوبۃ والانابۃ، باب من سعادۃ المرء۔۔۔الخ ،۵/۳۴۱، الحدیث۷۶۷۶
2…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۴۹(ت۔۱۱۴) ،۴/۲۲۴، الحدیث۲۵۰۷
3…بخاری،کتاب التوحید ، باب قول اللہ  تعالٰی: یزیدون أن۔۔۔الخ ،۴/۵۷۵، الحدیث۷۵۰۷