کرتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والے توبہ کریں اور وہ ان کی توبہ قبول فرمائے اور اسی طرح دن کو اپنا دستِ رحمت دراز فرماتا ہے تاکہ رات کے گناہگاروں کی توبہ قبول فرمائے یہاں تک کہ مغرب سے سورج طلوع ہوگا (1)(روزِ قیامت تک)
ترمذی کی حدیث ہے، مغرب کی طرف ایک دروازہ ہے جس کی چوڑائی چالیس یا ستر سال کے سفر کے برابر ہے، اللہ تَعَالٰی نے اسے آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے توبہ کے لئے کھولا ہے اور اسے بند نہیں کرے گا تاآنکہ مغرب سے سورج طلوع ہوگا۔(2) (روزِ قیامت تک)
ترمذی کی حدیث صحیح ہے اللہ تَعَالٰی نے مغرب میں توبہ کے لئے ایک دروازہ بنایا ہے جس کا عرض ستر سال کے سفر کے برابر ہے، اللہ اس وقت تک اسے بند نہیں فرمائے گا جب تک کہ اس سے پہلے سورج مغرب سے طلوع نہ کرے۔(3)
چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
یَوْمَ یَاۡتِیۡ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنۡفَعُ نَفْسًا اِیۡمٰنُہَا (4)
جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں آئیں گی کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا ۔
یہ کہا گیا ہے کہ یہ روایت اور پہلے والی روایت کے مرفوع ہونے کی تصریح نہیں ملتی جیسا کہ بیہقی نے اس کی تصریح کی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی باتیں اپنی عقل اور سمجھ سے نہیں کہی جاتیں لہٰذا یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہوگی۔
طبرانی نے جید سند سے نقل کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، سات دروازے بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لئے کھلا ہے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔(5)
ابن ماجہ نے جید سند سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمہارے گناہ آسمانوں تک پہنچ جائیں ، پھر تم توبہ کرو تو اللہ تَعَالٰی تمہاری توبہ قبول فرمالے گا۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب۔۔۔الخ، ص۱۴۷۵، الحدیث۳۱۔ (۲۷۵۹)
2…ترمذی،کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ۔۔۔الخ ، ۵/۳۱۶، الحدیث۳۵۴۶
3…المرجع السابق ، ص۳۱۷ ، الحدیث ۳۵۴۷
4…ترجمۂکنزالایمان: جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا ۔ (پ۸،الانعام:۱۵۸)
5…المعجم الکبیر ،۱۰/۲۰۶، الحدیث۱۰۴۷۹
6…ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ،۴/۴۹۰، الحدیث۴۲۴۸