باب:5
غَلَبۂ نفس و عداوتِ شیطان
ہر عقلمند کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھوکا رہ کر شہوات کا قَلع قَمع کرے اس لئے کہ بھوک اس دشمن خدا ’’نفس ‘‘ کے لئے قہر ہے۔ شیطان کا وسیلۂ ظفر یہی خواہشات اور کھانا پینا ہے۔ فرمانِ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے کہ شیطان تمہارے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔(1) اس کے ان راستوں کو بھوک سے بند کرو۔
بلاشبہ قیامت کے دن وہی شخص اللہ تَعَالٰی سے زیادہ قریب ہوگا جس نے بھوک پیاس برداشت کی ہوگی اور ابن آدم کے لئے سب سے زیادہ برباد کرنے والی چیزیں پیٹ کی خواہشات ہیں ، اس پیٹ کی بدولت حضرتِ آدم اور حوا عَلَیْہِمَا السَّلَامجنت سے ذلت اور فقروفاقہ کی زمین پر اتارے گئے جبکہ رب کریم نے انہیں شجر(ممنوعہ) کے کھانے سے منع کردیا تو انہوں نے پیٹ کی خواہشات کی بنا پر اسے کھا لیا تھا، یہی پیٹ ہی حقیقت میں شہوات کا مَنْبَع اور مرکز ہے۔
حکیمانہ اَقوال:
ایک دانا کا قول ہے: جس انسان پر اس کا نفس غالب آجاتا ہے وہ شہوات کا قیدی ہوجاتا ہے اور بیہودگی کا تابع بن جاتا ہے، اس کا دل تمام فوائد سے محروم ہو جاتا ہے، جس کسی نے بھی اپنے اَعضاء کی زمین کو شہوات سے سیراب کیا اس نے اپنے دل میں ندامت کی کاشت کی، اللہ تَعَالٰی نے مخلوق کو تین قسموں پر پیدا فرمایا ہے:
{1}… فرشتوں کو پیدا فرمایا، ان میں عقل رکھی مگر انہیں شہوات سے پاک ومنزہ رکھا۔
{2}…جانوروں کو پیدا کیا، ان میں شہوت رکھی مگر عقل سے عاری کردیا۔
{3}…انسان کو پیدا کیا، ان میں عقل اور شہوت دونوں ودیعت فرمائے۔
اب جس انسان کی عقل پر اس کی شہوت غالب آجاتی ہے، وہ جانوروں سے بدتر ہے اور جس مسلمان کی شہوات پر اس کی عقل غالب آجاتی وہ فرشتوں سے بھی بہتر ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الاعتکاف، باب ھل ید رأ المعتکف۔۔۔الخ، ۱/۶۷۰، الحدیث۲۰۳۹