اور ارشاد فرمایا:
سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخْشٰی ﴿ۙ۱۰﴾(1) البتہ نصیحت حاصل کرے گا جو شخص ڈرتا ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ (2) سوائے اس کے نہیں کہ اللہ کے بندوں میں سے عالم ڈرتے ہیں ۔
اور ہر وہ آیت یا حدیث جو علم کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے وہ خوف کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ خوف علم ہی کا ثمرہ ہے۔
ابن ابی الدنیا کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب خوفِ خدا سے بندے کا جسم کانپتا ہے اور اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے سوکھے درخت سے پتے جھڑتے ہیں ۔ (3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے ـ:مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اپنے بندے پر دوخوف اور دو امن جمع نہیں کرتا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے اَمن میں (بے خوف) ہوتا ہے تو میں قیامت کے دن خوفزدہ کروں گا اور اگر دنیا میں وہ مجھ سے ڈرتا ہے تو میں اسے قیامت کے دن بے خوف کردوں گا۔(4)
ابو سلیمان الدارانی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ ہر وہ دل جس میں خوفِ خدا نہیں ہے ویرانہ ہے اور فرمانِ الٰہی ہے:
اَفَاَمِنُوۡا مَکْرَ اللہِۚ فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۹﴾٪ (5)
پس خدا کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر خسارہ پانے والی قوم ہی بے خوف ہوتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے۔ (پ۳۰ ، الاعلٰی : ۱۰)
2…ترجمۂکنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ۲۲، فاطر: ۲۸)
3…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ،۱/۴۹۱، الحدیث۸۰۳
4…المرجع السابق ، ص۴۸۲ ، الحدیث ۷۷۷ بالتقدیم والتاخیر
5…ترجمۂکنزالایمان: تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔ (پ۹، الاعراف :۹۹)