جاتا ہے متہم ہوتا ہے اور جو اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا شرمندگی اٹھاتا ہے۔
ابن مبارک رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کہنا ہے کہ میں نے وہیب بن ورد رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے پوچھا کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، کیا وہ عبادت کا مزہ پاتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں اور معصیت کا اِرادہ کرنے والا بھی نہیں ۔
امام ابو الفرج ابن جوزی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ خوف خواہشاتِ نفسانی کو جلانے والی آگ ہے، جس قدر یہ آگ شہوات کو جلائے گی اور گناہوں سے رو کے گی، اس قدر یہ بہترین ہوگی اسی طرح جس قدر یہ خوف عبادت پر برانگیختہ کریگا اسی قدر یہ بہترین ہوگا اور خوف صاحب عزت کیسے نہیں ہوگا، اسی سے ہی تو پاکدامنی، تقویٰ، پرہیزگاری، مجاہدات اور ایسے عمدہ اعمال کا ظہور ہوتا ہے جن سے اللہ تَعَالٰی کا قرب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾ (1) ان لوگوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔
اور فرمانِ الٰہی ہے:
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾ٗ (2)
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرا۔
نیز فرمانِ الٰہی ہے:
وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ (3) اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایماندار ہو۔
مزید ارشاد ہوا:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ﴿ۚ۴۶﴾ (4)
اور جو شخص اپنے پرورد گار کے آگے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (پ۹،الاعراف:۱۵۴)
2…ترجمۂکنزالایمان: اللہ ان سے راضی، اور وہ اس سے راضی، یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔(پ۳۰، البینۃ:۸)
3…ترجمۂکنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ (پ۴، اٰلِ عمران : ۱۷۵)
4…ترجمۂکنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کیلئے دو جنتیں ہیں۔ (پ۲۷، الرحمٰن :۴۶)