Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
387 - 676
 اس کے جسم کے جس حصہ پرلگتے ہیں ، اس حصہ کو اللہ تَعَالٰی جہنم پر حرام کردیتا ہے اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا سینۂ انور رونے کی وجہ سے ایسے جوش مارتا تھا جیسے ہانڈی ابلتی اور جوش مارتی ہے (1)(یعنی جیسے بھڑکتی آگ پر ہانڈی جوش مارتی ہے)
	کندی کا قول ہے کہ خوفِ خدا سے رونے والے کا ایک آنسو سمندروں جیسی طویل و عریض آگ کو بجھا دیتا ہے۔
ابن سَمَّاک کی اپنے نفس کو سرزنش :
	حضرت ابن سَمَّاک رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ اپنے نفس کو سرزنش کرتے اور فرماتے کہ کہنے کو تو زاہدوں جیسی باتیں کرتے ہو اور عمل منافقوں جیسا کرتے ہو اور اس کج روی کے باوجود جنت میں جانے کا سوال کرتے ہو، دور ہو! دور ہو! جنت کے لئے دوسرے لوگ ہیں جن کے اعمال ہمارے اعمال سے قطعی مختلف ہیں ۔ 
حضرتِ جعفر کی نصیحتیں :
	حضرتِ سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ جعفر صادق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں ، میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لختِ جگر! مجھے وصیت کیجئے! آپ نے فرمایا:’’ سفیان! جھوٹے میں مروت نہیں ہوتی، حاسد میں خوشی نہیں ہوتی، غمگین میں بھائی چارہ نہیں ہوتا اور بدخلق کے لئے سرداری نہیں ہوتی۔‘‘ میں نے کہا: اے رسولِ خدا کے فرزند! کچھ اور نصیحت فرمائیے! آپ نے فرمایا: اے سفیان! اللہ تَعَالٰی کی منع کردہ چیزوں سے رک جاتو عابد ہوگا، اللہ کی تقسیم پر راضی ہو تو مسلمان ہوگا، جیسی تم لوگوں سے دوستی چاہتے ہو تم بھی ان کے ساتھ ویسی دوستی رکھو، تب تم مومن ہوگے، بُروں سے دوستی نہ رکھ ورنہ تو بھی بُرے عمل کرنے لگے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے، تم یہ دیکھو کہ تمہاری دوستی کس سے ہے؟ اور اپنے کاموں میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو خوفِ خدا رکھتے ہوں ، میں نے عرض کیا: اے رسولِ خدا کے فرزند! کچھ اور نصیحت کیجئے! آپ نے فرمایا: جو بغیر قبیلہ کے عزت اور بغیر حکومت کے ہیبت چاہے اسے چاہئے کہ خدا کی نافرمانی کی ذلت سے نکل کر اللہ کی فرمانبرداری میں آجائے، میں نے کہا: اے رسولِ خدا کے فرزند! کچھ اور نصیحت فرمائیے! آپ نے فرمایا: مجھے میرے والد نے تین بہترین ادب کی باتیں سکھلائیں اور فرمایا: اے بیٹے! جو بروں کی صحبت اختیار کرتا ہے، سلامت نہیں رہتا، جو بُری جگہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد، مسند المد نیین ، حدیث مطرف بن عبداللہ ،۵/۴۹۹،الحدیث۱۶۳۱۲