Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
386 - 676
تو اللہ تَعَالٰی انہیں اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا، ان میں سے ایک وہ آدمی ہے جس نے تنہائی میں اللہ تَعَالٰی کے عذاب اور وعید کو یاد کیا اور اپنے قصور یاد کر کے خوفِ الٰہی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور خوفِ الٰہی کی وجہ سے وہ نافرمانی اور گناہوں سے کنارہ کش ہوگیا۔(1)
عذابِ جہنم سے محفوظ دو آنکھیں :
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی، ایک وہ آنکھ جو آدھی رات میں اللہ کے خوف سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جس نے راہِ خدا میں نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔(2)
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر آنکھ روئے گی مگر جو آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رک گئی، جو آنکھ راہِ خدا میں بیدار رہی اور جس آنکھ سے خوفِ الٰہی کی وجہ سے مکھی کے سر کے برابر آنسو نکلا وہ رونے سے محفوظ رہے گی۔(3)
خوفِ الٰہی سے رونے والا جہنم سے آزاد ہے:
	ترمذی نے حسن اور صحیح کہہ کر حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہسے روایت کی ہے کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: وہ شخص جہنم میں ہر گز داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ دودھ دوبارہ تھن میں لوٹ آئے اور راہِ خدا کا غبار اورجہنم کا دھواں یکجا نہیں ہوں گے۔(4)
	حضرتِ عبداللہ بن عمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ ہزار دینار راہِ خدا میں خرچ کرنے سے مجھے خوفِ خدا سے ایک آنسو بہا لینا زیادہ پسند ہے۔
	حضرت عون بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں : مجھے یہ روایت ملی ہے کہ انسان کے خوفِ خدا سے بہنے والے آنسو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری،کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد۔۔۔الخ ،۱/۲۳۶، الحدیث۶۶۰
2…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ،۱/۴۸۸، الحدیث۷۹۶
3…حلیۃ الاولیاء، ۳/۱۹۰، الحدیث ۳۶۶۳
4…ترمذی،کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل الغبار۔۔۔الخ ،۳/۲۳۶، الحدیث۱۶۳۹