Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
385 - 676
اور پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ وہ شخص ہے جو زنا کرتا ہے، چوری کرتا ہے، شراب پیتا ہے مگر خوفِ خدا بھی رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اے ابوبکر کی بیٹی! ایسا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے مگر اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں وہ نامقبول نہ ہوں ۔ (1)اسے احمد نے روایت کیا ہے۔
	حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہا گیا: اے ابوسعید! تمہاری کیا رائے ہے؟ ہم ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتے ہیں جو ہمیں رحمتِ خداوندی سے اُمیدیں وابستہ رکھنے کی ایسی باتیں سناتے ہیں کہ ہمارے دل خوشی سے اڑنے لگتے ہیں ، آپ نے فرمایا: بخدا! تم اگر ایسی قوم میں بیٹھتے جو تمہیں خوفِ خدا کی باتیں سناتے اور تم کو عذاب الٰہی سے ڈراتے یہاں تک کہ تم امن پالو، وہ تمہارے لئے بہتر ہے اس چیز سے کہ تم ایسے لوگوں میں بیٹھو جو تم کو بے خوفی اور اُمید میں رکھیں یہاں تک کہ تم کو خوف آگھیرے۔
فاروقِ اعظم اور خشیت الٰہی:
	حضرتِ فاروقِ اعظم عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو جب نیزہ سے زخمی کردیا گیا اور ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹے! میرا چہرہ زمین پر رکھ دو، افسوس! اور شدید افسوس !اگر اللہ نے مجھ پر رحم نہ فرمایا۔ حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا نے کہا: امیرالمؤمنین! آپ کو کس چیز کا خوف ہے؟ اللہ تَعَالٰی نے آپ کے ہاتھ سے فتوحات کرائیں ، شہر آباد کرائے۔ انہوں نے کہا: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے برابر ہی میں چھوڑ دیا جائے یعنی نہ نقصان اور نہ نفع دیا جائے۔
	حضرتِ زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ جب وضو سے فارغ ہوتے تو کانپنے لگ جاتے، لوگوں نے سبب پوچھا :تو آپ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! تمہیں پتہ نہیں میں کس کی بارگاہ میں جارہا ہوں اور کس سے مناجات کا ارادہ کر رہا ہوں ۔ 
	حضرتِ احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ عَنْہنے فرمایا: خوفِ خدا نے مجھے کھانے پینے سے روک دیا، اب مجھے کھانے پینے کی خواہشات نہیں ہوتیں ۔ 
	صحیحین کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ان سات آدمیوں کا ذکر کیا کہ جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد، مسند السیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا ،۱۰/۱۹، الحدیث ۲۵۷۶۳ بالتقدیم  و التاخیر