Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
384 - 676
کے شدید انتقام اور ہیبت و جلال کے خوف سے اللہ تَعَالٰی کی پناہ ڈھونڈتے۔(1)
	ایک روایت میں حضرتِ بکر بن عبد اللہ المزنی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: جو لوگ ہنستے ہوئے گناہ کرتے ہیں وہ روتے ہوئے جہنم میں جائیں گے۔
	حدیث شریف میں ہے کہ اگر مومن اللہ تَعَالٰی کے تیار کردہ تمام عذابوں کو جانتا تو کبھی بھی جہنم سے بے خوف نہ ہوتا۔(2)
	صحیحین میں ہے؛ جب یہ آیت نازل ہوئی:
وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾ۙ (3)		اور اپنے قریبی رشتہ دار وں کو ڈرا۔
تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے گروہِ قریش! اللہ تَعَالٰی سے اپنے نفسوں کو خرید لو، میں تمہیں اللہ تَعَالٰی کے معاملات میں کسی چیز سے بے پروا نہیں کروں گا، اے بنی عبدِ مناف! (حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے رشتہ دار) میں تمہیں احکامِ خداوندی میں کسی چیز سے بے پروا نہیں کروں گا، اے عباس! (رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے چچا)  میں آپ کو اللہ تَعَالٰی کے عذاب سے کسی چیز سے بے پروا نہیں کروں گا، اے صفیہ! (رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی پھوپھی) میں تم کو اللہ کے سامنے کسی چیز سے بے پروا نہیں کروں گا، اے فاطمہ! (حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بیٹی) میرے مال سے جو چاہے مانگ لو مگر میں اللہ کے سامنے تمہیں کسی چیز سے بے پروا نہیں کروں گا۔(4)
	حضرتِ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے یہ آیت پڑھی:
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ (5)
اور جو لوگ اللہ کی عطا کردہ چیزوں سے دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ اللہ تَعَالٰی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کنز العمال،کتاب العظمۃ ، قسم الاقوال،۵/۱۶۶، الجزء العاشر، الحدیث ۲۹۸۲۴، ۲۹۸۲۸ و مسند احمد ، ۳۵/۴۰۵، الحدیث۲۱۵۱۶ ملتقتا
2…
3…ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ (پ۱۹، الشعراء : ۲۱۴)
4…بخاری،کتاب التفسیر، باب ولا تخزنی۔۔۔الخ ،۳/۲۹۴، الحدیث ۴۷۷۱
5…ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے ربّ کی طرف پھرنا ہے۔ (پ۱۸، المومنون :۶۰)