Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
383 - 676
باب 52
گناہوں سے خوفزدہ ہونے کی فضیلت 
	یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے کہ گناہوں سے متنبہ کرنے والی باتوں میں خوفِ الٰہی، اس کے انتقام کا اندیشہ، اس کی ہیبت اور شان و شوکت، اس کے عذاب کا ڈر اور اس کی گرفت بہت نمایاں حیثیت رکھتی ہیں ، فرمانِ الٰہی ہے کہ 
	’’جو لوگ اللہ تَعَالٰی کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس امر سے ڈریں کہ انہیں فتنہ یا درد ناک عذاب پہنچے۔‘‘(1)
	مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک جوان کے پاس تشریف لائے جو نزع کے عالم میں تھا، آپ نے فرمایا: اپنے آپ کو کس عالم میں پاتے ہو؟ عرض کیا: یارسول اللہ! میں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہوں ۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا کہ کسی بندے کے دل میں ایسی دوباتیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تَعَالٰی اس بندے کی امید پوری کردیتا ہے اور گناہوں کے خوف سے اسے بے نیاز کردیتا ہے۔(2)
	  وہب بن ورد سے مروی ہے: حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام فرمایا کرتے تھے کہ جنت کی محبت اور جہنم کا خوف مصیبت کے وقت صبر دیتا ہے اور یہ دو چیزیں دنیاوی لذتوں ، خواہشات اور نافرمانیوں سے دور کردیتی ہیں ۔ 
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: بخدا تم سے پہلے ایسے لوگ ہوگزرے ہیں جو گناہوں کو اتنا عظیم سمجھتے تھے کہ وہ بے حد و حساب سونے چاندی کی بخششوں کو بھی اپنے ایک گناہ سے نجات کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ جو کچھ میں سنتا ہوں ، کیا تم سنتے ہو؟ آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ چرچرائے، ربِّ ذوالجلال کی قسم! آسمان میں چار انگل جگہ نہیں ہے جس میں فرشتہ بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ، قیام کرنے والا یا رکوع کرنے والا نہ ہو، جوکچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور نکل جاتے یا پہاڑوں پر چڑھ جاتے اور اللہ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے۔ (پ۱۸، النور:۶۳) 
2…ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی التشدید عند الموت ،۲/۲۹۶، الحدیث۹۸۵