Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
381 - 676
اِتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ﴿۱۰۲﴾(1)
اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تم ہرگز نہ مرو مگر یہ کہ مسلمان ہو کر مرو۔
اور فرمایا کہ زقوم کا اگر ایک قطرہ زمین پر ڈال دیا جائے تو مخلوق پر زندگی گزارنا دو بھر ہوجائے، اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کی غذا ہی زقوم ہوگی۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : اس کا کیا حال ہوگاجس کا زقوم کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔(2)
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے صحیح روایت کے ساتھ مروی ہے: انہوں نے فرمانِ الٰہی:
وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ (3)		اور کھانا گلے میں پھنس جانے والا۔
کی تفسیر میں فرمایا کہ اس میں کانٹے ہوں گے جو حلق پکڑ لیں گے، نہ اوپر آئیں گے اور نہ نیچے پیٹ میں اتریں گے۔ 
      بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ کافر کے کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رفتار سوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا۔(4)
	احمد کی روایت ہے کہ کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی ران بیضاء پہاڑ کی مثل ہوگی اور جہنم میں اس کی بیٹھک قدید اور مکہ معظمہ کے درمیانی فاصلہ کے برابر ہوگی یعنی تین دن کے سفر کے برابر، اس کے چمڑے کی موٹائی بیالیس یمنی ہاتھ ہوگی یا بیالیس عجمی ہاتھ، ابن حبان نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔(5)
	مسلم کی روایت ہے کہ کافر کی داڑھ یا دانت احد پہاڑ جیسا ہوگا اور اس کے چمڑے کی موٹائی تین دن کے سفر کے برابر ہوگی۔(6)
	ترمذی کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ قیامت کے دن کافر کی داڑھ اُحد کے برابر ہوگی، اس کی ران بیضاء کے برابر اور جہنم میں اسکی بیٹھک تین دن کے سفر کے برابر ہوگی جیسے ربذہ اور مدینہ کا درمیانی فاصلہ ہے۔(7)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان: اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔ (پ۴،اٰلِ عمران:۱۰۲)
2…ترمذی،کتاب صفۃ جہنم ، باب ماجاء فی صفۃ شراب۔۔۔الخ ،۴/۲۶۳، الحدیث۲۵۹۴
3…ترجمۂکنزالایمان:اور گلے میں پھنستا کھانا ۔(پ۲۹،المزمل:۱۳)
4…بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ۴/۲۶۰، الحدیث ۶۵۵۱
5…مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ ، ۳/۶۴۰، الحدیث۱۰۹۳۱
6…مسلم ،کتاب صفۃ الجنۃ۔۔۔الخ ، باب النار یدخلھا۔۔۔الخ، ص۱۵۲۷، الحدیث ۴۴۔ (۲۸۵۱)
7…ترمذی ،کتاب صفۃ جہنم ، باب ماجاء فی عظم اھل النار،۴/۲۶۱، الحدیث ۲۵۸۷