فرمانِ الٰہی ہے:
وَ اِنۡ یَّسْتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالْمُہۡلِ یَشْوِی الْوُجُوۡہَ ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ ؕ (1)
اور جب وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی ایسے پانی کے ساتھ جو گلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا جو ان کے دہنوں کو بھون ڈالے گا وہ بہت برا پینا ہے۔
جہنم کا بدبودار پانی:
احمد اور حاکم کی روایت ہے کہ اگر’’ جہنم‘‘ کے بدبودار پانی کا ڈول دنیا میں گرا دیا جائے تو تمام مخلوق اس کی بدبو سے پریشان ہوجائے، اس پانی کا نام غَسّاق ہے جس کا فرمانِ الٰہی میں بھی ذکر ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ’’پس چکھو گرم پانی اور غسّاق کو‘‘ (2)
اور جہنمیوں کے مشروب کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’مگر گرم پانی اور غسّاق ہوگا۔‘‘ (3)
غساق کے معنی میں کچھ اختلاف ہے۔(4)
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ مواد ہے جو جہنمیوں کے چمڑوں سے بہے گا اور بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ان کی پیپ ہے۔ حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ وہ جہنم کا ایک کنواں ہے جس میں ہر زہریلی چیز جیسے سانپ بچھو وغیرہ کا زہر بہہ کر آئے گا اور وہاں جمع ہوتا رہے گا پھر کافر کو وہاں لایا جائے گا اور اسے اس میں غوطہ دیا جائے گا، جب وہ نکلے گا تو اس کا چمڑا اور گوشت گر چکا ہوگا اور اس کے پیروں اور ٹانگوں کے پیچھے چمٹا ہوا گھسٹتا ہوا آئے گا جیسے آدمی اپنے کسی کپڑے کو گھسیٹتا ہوا لاتا ہے۔
ترمذی کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ آیت پڑھی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور اگر پانی کے لئے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے (پگھلے) ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون (جلا) دے گا کیا ہی بُراپینا ۔ (پ۱۵، الکھف:۲۹)
2…ترجمۂکنزالایمان: تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ۔ (پ۲۳ ،صٓ:۵۷)
3…ترجمۂکنزالایمان: مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ۔(پ۳۰، النبا:۲۵)
4…مسند احمد، مسند ابی سعید الخدری ، ۴/۵۸، الحدیث۱۱۲۳۰