مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتْ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾ (1)
اس نے کسی چیز کو نہیں چھوڑا جس پر وہ آئی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کر دیا۔
تیسری زمین میں جہنم کے پتھر ہیں ، چوتھی میں جہنم کا گندھک ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! جہنم کے لئے بھی گندھک ہے؟ آپ نے فرمایا: بخدا! اس میں گندھک کی کئی وادیاں ہیں ، اگر ان میں بلند و بالا مستحکم پہاڑ ڈالے جائیں تو نرم ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائیں ، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں جن کے منہ غاروں کی طرح ہیں جب وہ کافر کو ایک مرتبہ ڈسیں گے تو اس کی ہڈیوں پرگوشت باقی نہیں رہیگا۔
چھٹی میں جہنم کے بچھو ہیں جن میں سب سے چھوٹا بچھو بھی پہاڑی خچر کے برابر ہے وہ جب کافر کو ڈسے گا تو کافر جہنم کی شدت اور گرمی کو بھول جائے گا۔
ساتویں میں ابلیس لوہے سے جکڑا ہوا ہے، اس کا ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے ہے، جب اللہ تَعَالٰی چاہتا ہے کہ اسے کسی بندے کے لئے چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔(2)
احمد، طبرانی، صحیح ابن حبان اور حاکم کی روایت ہے کہ جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے سانپ ہیں ، جب ان میں سے کوئی ایک ڈستا ہے تو اس کی گرمی ستر سال کے راستے کی دُوری سے محسوس کی جاتی ہے اور جہنم میں پہاڑی خچروں جیسے بچھو ہیں ، جب وہ ڈستے ہیں تو ان کی گرمی چالیس سال کی دوری سے محسوس کی جاتی ہے۔(3)
ترمذی، صحیح ابن حبان اور حاکم کی روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمانِ الٰہی’’ کَالْمُہۡلِ ‘‘ (4) کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ زیتون کے تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، جب وہ ان کے چہروں کے قریب آئے گا تو ان کے چہرے کی کھال بالوں سمیت ادھڑ کر اس میں گر جائے گی۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کر چھوڑتی۔(پ۲۷، الذّٰرِیٰت : ۴۲)
2…المستدرک للحاکم،کتاب الاہوال، باب کل ارض الی التی۔۔۔الخ، ۵/۸۱۶، الحدیث۸۷۹۴
3…مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث عبداللہ بن الحارث۔۔۔الخ، ۶/۲۱۷، الحدیث۱۷۷۲۹
4…ترجمۂکنزالایمان: چرخ دیئے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح۔ (پ۱۵،الکھف:۲۹)
5…المستدرک للحاکم،کتاب الاھوال ، باب صفۃ ماء کالمھل ، ۵/۸۲۹، الحدیث ۸۸۲۲