بخاری نے اپنی تاریخ میں یہ منکر السند حدیث نقل کی ہے کہ جہنم میں ستر ہزار وادیاں ہیں ، ہر وادی میں ستر ہزار گھاٹیاں ہیں ، ہر گھاٹی میں ستر ہزار گھر ہیں ، ہر گھر میں ستر ہزار مکان ہیں ، ہر مکان میں ستر ہزار کنوئیں ہیں ، ہر کنوئیں میں ستر ہزار اژدہے ہے، ہر اژدہا کی باچھوں میں ستر ہزار بچھو ہیں ، کافر اور منافق ان تمام کا عذاب پائے بغیر نہیں رہے گا۔(1)
ترمذی میں منقطع السند روایت ہے کہ جہنم کے کنارے سے عظیم چٹان لڑھکائی جاتی ہے اور ستر سال گزرنے کے باوجود بھی وہ جہنم کی گہرائی تک پہنچ نہیں پاتی۔(2)
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرمایا کرتے :جہنم کو اکثر یاد کیا کرو کیونکہ اس کی گرمی سخت، اس کی گہرائی بے حد ہے اور اس میں لوہے کے ہتھوڑے ہیں ۔
بزاز، ابویعلی، صحیح ابن حبان اور بیہقی کی روایت ہے کہ اگر جہنم میں پتھر پھینکا جائے اور اسے نیچے جاتے ہوئے ستر سال گزر جائیں ، تب بھی وہ اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ س کے گا۔(3)
’’مسلم‘‘ میں حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ تھے کہ ہم نے ایک دھماکہ سنا، حضور نے فرمایا: جانتے ہو یہ کیا تھا؟ ہم نے عرض کیا :اللہ اور اس کا رسول (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا:یہ پتھر تھا جسے اللہ تَعَالٰی نے ستر سال پہلے جہنم میں ڈالا تھا ابھی وہ اس کی گہرائی تک پہنچ سکا ہے۔(4)
طبرانی میں حضرتِ ابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک ہولناک آواز سنی، جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا:جبریل یہ کیسی آواز تھی؟ جبریل نے عرض کیا: یہ چٹان تھی جسے ستر سال پہلے جہنم کے کنارے سے گرایا گیا تھا اور وہ ابھی جہنم کی گہرائی تک پہنچی ہے، اللہ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…التاریخ الکبیر، باب نفیر، ۸/۶۲۱، الحدیث ۱۱۷۷۵
2…ترمذی،کتاب صفۃ جہنم، باب ماجاء فی صفۃ قعر جہنم ، ۴/۲۶۰، الحدیث ۲۵۸۴
3…صحیح ابن حبان،کتاب اخبارہ۔۔۔الخ ، باب صفۃ النارواھلھا، ۶/۲۷۸، الجزء التاسع، الحدیث ۷۴۲۵
4…مسلم، کتاب الجنۃ۔۔۔الخ، باب فی شدۃ حر نار جہنم۔۔۔الخ،ص۱۵۲۳، الحدیث۳۱۔ (۲۸۴۴)