باب 51
عذابِ جہنّم
ابو داؤد، نسائی اور ترمذی کی روایت ہے: جب اللہ تَعَالٰی نے جنت اورجہنم کو پیدا فرمایا تو جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکو بھیجا کہ جنت اور اس میں جو کچھ میں نے جنتیوں کے لئے تیار کیا ہے، اسے دیکھ آؤ، جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے آکر جنت اور اس میں رہنے والوں کے لئے تیار شدہ نعمتوں کو دیکھا اور بارگاہِ الٰہی میں جاکر عرض کیا: تیرے عزت و جلال کی قسم! جو بھی اس کا تذکرہ سنے گا اس میں آنے کی کوشش کرے گا، اللہ تَعَالٰی نے حکم دیا اور جنت پر مصائب طاری کردیئے گئے، پھر اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: جاؤ اور دیکھو کہ میں نے جنت میں آنے والوں کے لئے کیا انتظام کیا ہے! جبریل جنت کی طرف آئے تو دیکھا کہ وہ مصائب میں چھپادی گئی ہے چنانچہ جبریل واپس آگئے اورکہا: مجھے تیری عزت کی قسم !مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی نہیں جائے گا۔
پھر اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: جاؤ جہنم اوراس میں پہنچنے والوں کے لئے میں نے جو کچھ تیار کیا ہے اسے دیکھو! جبریل نے جہنم کو دیکھا اس کی ایک آگ دوسری آگ کو روندرہی تھی۔ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام واپس آگئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی :تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کا تذکرہ سنے گا اس میں نہیں آئے گا، اللہ تَعَالٰی نے حکم دیا اور جہنم کو شہوات سے ڈھانپ دیا گیا۔ رب تعالیٰ نے جبریل سے فرمایا: اب جاؤ اور اسے دیکھو! جبریل آئے، جہنم کو دیکھا اورواپس جاکر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی اس میں گرنے سے نہیں بچے گا۔(1)
بیہقی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے:انہوں نے فرمانِ الٰہی:
اِنَّہَا تَرْمِیۡ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ﴿ۚ۳۲﴾ (2) بے شک جہنم محلوں جیسی چنگاریاں پھینکتی ہے۔
کی تشریح میں فرمایا:’’ یہ نہیں کہتا کہ وہ درختوں جتنی بڑی چنگاریاں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء حفت الجنۃ۔۔۔الخ، ۴/۲۵۳،الحدیث۲۵۶۹
2…ترجمۂکنزالایمان:بے شک دوزخ چنگاریاں اُڑاتی ہے جیسے اونچے محل۔(پ۲۹،المرسلٰت:۳۲)