زیادہ حقدار ہوں ، کیا خبر علم خدا میں میرا اس مقام کے علاوہ کوئی اور مقام ہو!کیا خبر کہیں مجھے اِبلیس کی طرح نہ آزمایا جائے! وہ بھی تو فرشتوں میں رہتا تھا !اور کیا خبر مجھے ہاروت و ماروت کی طرح آزمائش میں نہ ڈال دیا جائے! تب حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم اور جبریل عَلَیْہِ السَّلَام دونوں اَشکبار ہوگئے اور یہ اَشکباری برابر جاری رہی یہاں تک کہ آواز آئی:
’’ اے جبریل! اے محمد! اللہ تَعَالٰی نے تم دونوں کو اپنی نافرمانی سے محفوظ کرلیا ہے‘‘ پس اس کے بعد جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آسمانوں کی طرف پرواز کر گئے۔(1)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا گزر انصار کی ایک جماعت سے ہوا جو ہنس رہے تھے اور فضول باتوں میں مصروف تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تم ہنستے ہو! حالانکہ تمہارے پیچھے جہنم ہے جسے میں جانتا ہوں ، اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے، تم کھانا پینا چھوڑ دیتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے اور انتہائی مصائب برداشت کر کے اللہ کی عبادت کرتے۔
اس وقت اللہ تَعَالٰی کی طرف سے ندا آئی کہ اے محمد !(صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے بندوں کو نااُمید نہ کرو، آپ خوشخبری دینے والے بناکر بھیجے گئے ہیں ، لوگوں کو مصائب میں ڈالنے والے بناکر نہیں بھیجے گئے، پس رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ راہِ راست پر گامزن رہو اور رحمت خداوندی سے اُمید رکھو۔(2)
احمد کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے جبریل سے کہا: میں نے کبھی بھی میکائیل کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ جبریل نے کہا کہ جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کبھی نہیں مسکرائے۔(3)
مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار لگامیں دے کر لایا جائے گا اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (4)
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط ، ۲/۷۸، الحدیث۲۵۸۳
2…المعجم الاوسط ، ۲/۷۸، الحدیث۲۵۸۳
3…مسند احمد، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴/۴۴۷، الحدیث ۱۳۳۴۲
4…مسلم ،کتاب الجنۃ۔۔۔الخ، باب فی شدۃ حر نار۔۔۔الخ ، ص ۱۵۲۳، الحدیث ۲۹۔ (۲۸۴۲)