وَسَلَّم نے فرمایا: جہنم کے سات دروازے ہیں : ان میں ایک دروازہ اس شخص کے لئے ہے جس نے میری امت پر تلوار سونتی۔(1)
آتشِ جہنم کی ہولناکیاں :
طبرانی نے اوسط میں روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ایسے وقت میں تشریف لائے کہ اس وقت میں اس سے قبل کسی وقت میں نہیں آتے تھے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کھڑے ہوگئے اور فرمایا: جبریل! کیا بات ہے؟ میں تم کو متغیر دیکھ رہا ہوں ؟ جبریل نے عرض کی: میں اس وقت آپ کے پاس آیا ہوں جبکہ اللہ تَعَالٰی نے جہنم کو دہکا دینے کا حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جبریل! مجھے اس آگ یا جہنم کے بارے میں بتلاؤ! جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی کہ اللہ تَعَالٰی نے’’ جہنم‘‘ کو حکم دیا اور اس میں ایک ہزار سال تک آگ دہکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، (2)پھر اسے ہزار سال تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی،پھر اسے حکمِ خداوندی سے ہزار سال تک اور بھڑکایا گیاتاآنکہ وہ بالکل سیاہ ہوگئی، اب وہ سیاہ اور تاریک ہے، نہ اس میں چنگاری روشن ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا بھڑکنا ختم ہوتا ہے اور نہ اس کے شعلے بجھتے ہیں ۔
اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو نبی ٔ برحق بنا کر مبعوث فرمایا ہے، اگر سوئی کے نا کے کے برابر بھی جہنم کو کھول دیا جائے تو تمام اہلِ زمین فنا ہوجائیں ، اور قسم ہے! اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اگر جہنم کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ دنیا والوں پر ظاہر ہوجائے تو زمین کی تمام مخلوق اس کی بدصورتی اور بدبو کی وجہ سے ہلاک ہوجائے، اور قسم ہے! اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اگر جہنم کے زنجیروں کا ایک حلقہ ’’ جس کا اللہ تَعَالٰی نے قرآنِ کریم میں ذکر کیا ہے‘‘ دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں اور وہ حلقہ ’’ تَحْتُ الثَّریٰ‘‘ میں جا ٹھہرے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ سنکر فرمایا:بس جبریل بس! اتنا تذکرہ ہی کافی ہے، میرے لئے یہ بات انتہائی پریشان کن ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ تب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے جبریل کو دیکھا! وہ رور ہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: جبریل! تم کیوں روتے ہو حالانکہ تمہارا تو اللہ کے ہاں بہت بڑا مقام ہے۔ جبریل نے کہا: میں کیوں نہ رؤوں ؟ میں ہی رونے کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ (الحجر) ،۵/۸۶، الحدیث ۳۱۳۴
2…یہاںترجمہ میں یہ عبارت ’’ اس میں ایک ہزار سال تک آگ دہکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی ‘‘لکھنے سے رہ گئی تھی شاید کاتب سے غلطی ہوئی ہو،بہرحال ہم نے عربی متن دیکھ کر یہاں تصحیح کردی ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم ۔ علمیہ