Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
371 - 676
باب 50
طبقاتِ جہنم اوران کے عذاب
	فرمانِ الٰہی ہے:
لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوٰبٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾ (1)
اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کا جزء مقررہے۔
	یہاں ’’ جُزْئٌ ‘‘سے مراد گروہ، جماعت اور فریق ہے اور دروازوں سے مراد طبقات ہیں جو اوپر نیچے بنے ہوئے ہیں ۔ 
جہنم کا ہر طبقہ ایک گروہ کے لئے مخصوص ہے:
	ابن جریج کا قول ہے کہ جہنم کے طبقات سات ہیں :’’جہنم‘‘،’’لظی‘‘  پھر’’ حُطَمَہ‘‘، پھر’’سَعِیْر‘‘، پھر ’’سَقَر‘‘،  پھر ’’جَحِیْم‘‘  اور پھر’’ھَاوِیَہ‘‘۔پہلا طبقہ موحدین کے لئے،دوسرا یہود کے لئے،تیسرا نصاریٰ کے لئے،چوتھا صائبین کے لئے،پانچواں آتش پرستوں کے لئے،چھٹا مشرکوں کے لئے اورساتواں منافقوں کے لئے ہے۔
	 ’’جہنم‘‘ سب سے اوپر کا طبقہ ہے اور باقی سب مذکورہ ترتیب کے ساتھ اس کے نیچے ہیں ۔ اور یہ بایں معنی ہے کہ اللہ تَعَالٰی ابلیس کے پیروکاروں کو سات گروہوں میں تقسیم فرمائے گا اور ہر گروہ اورفریق جہنم کے ایک طبقہ میں رہے گا، اس کا سبب یہ ہے کہ کفر اور گناہوں کے مراتب چونکہ مختلف ہیں اس لئے جہنم میں دخول کے لئے ان کے درجات بھی مختلف ہیں ۔ اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سات طبقات کو انسان کے سات اعضائے بدن کے مطابق بنایا گیا ہے، اعضاء یہ ہیں : آنکھ، کان، زبان، پیٹ، شرمگاہ، ہاتھ اورپیر، کیونکہ یہی اَعضاء گناہوں کا مرکز ہیں اسی لئے ان کے وارد ہونے کے دروازے بھی سات ہیں۔ 
	  حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جہنم کے اُوپر نیچے (تہ بہ تہ) سات طبقات ہیں لہٰذا پہلے، پہلا بھرا جائے گا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اسی طرح سب طبقات بھرے جائیں گے۔
	بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ترمذی نے حضرتِ ابن عمررَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے روایت کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان: اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک حصّہ بٹا ہوا ہے۔  (پ۱۴، الحجر : ۴۴)