Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
370 - 676
  عَمَداً نماز ترک کرنے والا زانی سے بھی بدتر ہے:
	نیز یہ بھی مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی خدمت میں آئی اورعرض کیا اے نبی اللہ! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اور توبہ بھی کی ہے، اللہ تَعَالٰی سے دعا مانگئے کہ وہ میرے گناہ کو بخش دے اور میری توبہ قبول فرمالے۔
	حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا: تو نے کونسا گناہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگی کہ میں زنا کی مرتکب ہوئی اورجو بچہ پیدا ہوا میں نے اسے قتل کردیا ہے! یہ سن کر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  بولے: اے بدبخت! نکل جا، کہیں تیری نحوست کی وجہ سے آسمان سے آگ نازل ہوکر ہمیں نہ جلادے!چنانچہ وہ شکستہ دل ہوکر وہاں سے چل پڑی، تب جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اورکہا: اے موسیٰ! (عَلَیْہِ السَّلَام)  اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ تونے گناہ سے توبہ کرنے والی کو کیوں واپس کردیا ہے؟ کیا تو نے اس سے بھی زیادہ بُرا آدمی نہیں پایا؟ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا: اے جبریل! اس عورت سے زیادہ برا کون ہے؟ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامبولے کہ اس سے بُرا وہ ہے جو جان بوجھ کر نماز چھوڑدے۔
	بعض صالحین سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی مردہ بہن کو دفن کیا تو اس کی تھیلی بے خبری میں قبر میں گر گئی۔ جب سب لوگ اسے دفن کر کے چلے گئے تو اسے اپنی تھیلی یاد آئی، چنانچہ وہ آدمی لوگوں کے چلے جانے کے بعد بہن کی قبر پرپہنچا اور اسے کھودا، تاکہ تھیلی نکال لے، اس نے دیکھا کہ اس کی قبر میں شعلے بھڑک رہے ہیں ، چنانچہ اس نے قبر پر مٹی ڈالی اور انتہائی غمگین روتا ہوا ماں کے پاس آیا اور پوچھا: ماں ! یہ بتاؤ کہ میری بہن کیا کرتی تھی؟ ماں نے پوچھا: تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ وہ بولا میں نے اپنی بہن کی قبر میں آگ کے شعلے بھڑکتے دیکھے ہیں ۔ اس کی ماں رونے لگی اور کہا: تیری بہن نماز میں سُستی کرتی رہتی تھی اور نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھا کرتی تھی۔
	یہ تو اس کا حال ہے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھا کرتی تھی اوران لوگوں کا کیا حال ہے جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔ 
	اے اللہ! ہم تجھ سے نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے اور پابندی سے نماز پڑھنے کی توفیق طلب کرتے ہیں ، بے شک اے رب! تو مہربان،کریم، رؤف اور رحیم ہے۔