Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
37 - 676
 بندوں یعنی انبیاء، اولیاء، صدیقین اور زاہدین کے حالات ایسے ہی تھے۔حضرتِ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کا قول ہے کہ جس شخص نے اپنے نفس پر قابو پایا وہ اس شخص سے زیادہ طاقتور ہے جو تن تنہا ایک شہر کو فتح کر لیتا ہے۔        
	حضرتِ علی رَضِی َاللہُ عَنْہکا قول ہے کہ میں اپنے نفس کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ پر ایسے ایک جوان کی طرح ہوں کہ جب وہ ایک طرف انہیں اکٹھا کرتا ہے تو وہ دوسری طرف پھیل جاتی ہیں ۔ 
	جو شخص اپنے نفس کو فنا کردیتا ہے اسے رحمت کے کفن میں لپیٹ کر کرامت کی زمین میں دفن کیا جاتا ہے اور جو شخص اپنے ضمیر (قلب) کو ختم کر دیتا ہے اسے لعنت کے کفن میں لپیٹ کر عذاب کی زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔
	حضرتِ یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہکہتے ہیں کہ اپنے نفس کا طاعت و بندگی کر کے مقابلہ کرو! ’’ریاضت         ‘‘ شب بیداری، قلیل گفتگو، لوگوں کی تکالیف برداشت کرنا اور کم کھانے کا نام ہے۔ کم سونے سے خیالات پاکیزہ ہوتے ہیں ، کم بولنے سے انسان آفات سے محفوظ رہتا ہے، تکالیف برداشت کرنے سے درجات بلند ہوتے ہیں اور کم کھانے سے شہوات نفسانی ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ بہت کھانا دِل کی سیاہی اور اسے گرفتارِ ظلمت کرتا ہے، بھوک حکمت کا نور ہے اور سیر ہونا اللہ تَعَالٰی سے دور کردیتا ہے۔ فرمانِ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے:
نَوِّرُوْا قُلُوْبَکُم بِالْجُوْعِ وَجَھِدُوْا اَنْفُسَکُمْ بِا لْجُوْعِ وَالْعَطَشِ وَاَدِیْمُوْا قَرْعَ باب الْجَنَّۃِ بِا لْجُوْعِ فَاِنَّ الْاَجْرَ فِیْ ذٰلِکَ کَاَجْرِ الْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ عَمَلٍ اَحَبَّ اِلٰی اللہِ مِنْ جُوْعٍ وَّ عَطَشٍ وَّ لَنْ یَّلِجَ مَلَکُوْتُ السَّمٰوٰتِ مَنْ مَلَأَ بَطْنَہٗ وَ فَقَدَ حَلَاوَۃَ  الْعِبَادَۃِ۔(1)
	ترجمہ: اپنے قلوب کو بھوک سے منور کرو اپنے نفس کا بھوک پیاس سے مقابلہ کرو اور ہمیشہ بھوک کے توسط سے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہو، بھو کے رہنے والے کو مجاہد فی سبیل اللہ کے ثواب کے برابر ثواب ملتا ہے اور اللہ تَعَالٰی کے نزدیک بھو کے پیاسے رہنے سے بہتر کوئی عمل نہیں ، آسمان کے فرشتے اس انسان کے پاس بالکل نہیں آتے جس نے اپنا پیٹ بھر کر عبادت کا مزہ کھودیا ہو۔
	’’ مِنْہَاجُ العابدِین‘‘ میں حضرتِ ابوبکر صدیق رَضِی َاللہُ عَنْہ کا یہ قول مذکور ہے کہ میں جب سے ایمان لایا ہوں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تاکہ میں اپنے رب کی عبادت کا مزہ حاصل کر سکوں اور اپنے رب کے شوقِ دیدار کی وجہ سے کبھی سیر ہو کر پانی نہیں پیا ہے اس لئے کہ بہت کھانے سے عبادت میں کمی واقع ہوجاتی ہے کیونکہ جب انسان خوب سیر ہوکر کھا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… فتاویٰ حدیثیۃ، ۱/۱۱۷