٭… پہلی سطر یہ ہوگی: اے اللہ کے حقوق ضائع کرنے والے!
٭…دوسری سطر ہوگی: اے اللہ کی ناراضگی کے لئے مخصوص! اور
٭…تیسری سطر ہوگی کہ جیسے تو نے اللہ کے حقوق دنیا میں ضائع کئے ہیں ایسے ہی تو آج اللہ کی رحمت سے ناامید ہوگا۔
اس حدیث میں مجموعی تعداد تو پندرہ بتائی گئی ہے مگر تفصیلاً چودہ کا ذکر ہے، شاید راویٔ حدیث پندرہویں بات بھول گئے۔(1)
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تَعَالٰی اسے جہنم میں جانے کا حکم دے گا وہ پوچھے گا: یا اللہ! مجھے کس لئے جہنم میں بھیجا جارہا ہے؟ رب تعالیٰ فرمائے گا کہ نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھنے اور میرے نام کی جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے یہ ہورہا ہے۔(2)
بعض محدثین سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک دن صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ سے کہا کہ تم یوں دعا مانگا کرو ! ’’ اے اللہ! ہم میں سے کسی کو شقی اور محروم نہ بنا۔‘‘ پھر فرمایا: جانتے ہو بدبخت محروم کون ہوتا ہے؟ کہا گیا : کون ہوتا ہے؟ یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: جو انسان تارکِ نماز ہوتا ہے۔(3)
نیز فرمایا(محدثین نے): حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے: آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تارکینِ نماز کے منہ کالے کئے جائیں گے اور جہنم میں ایک وادی ہے جسے ’’ لَمْلَم‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں سانپ رہتے ہیں ، ہر سانپ اونٹ جتنا موٹا اور ایک ماہ کے سفر کے برابر طویل ہوگا، وہ بے نمازی کوڈسے گااس کا زہر ستّر سال تک بے نمازی کے جسم میں جوش مارتا رہے گا، پھر اس کا گوشت گل جائے گا۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…
2…
3…کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ الرابعۃ فی ترک الصلاۃ ، فصل فی المحافظۃ …الخ، ص ۲۵
4…’’ کتاب الکبائر ‘‘ میں امام ذہبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جہنم کی اس وادی کا نام ’’ ملحم‘‘ لکھا ہے۔ علمیہ… المرجع السابق