Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
368 - 676
	٭… اس کے کسی بھی عمل کا اللہ تَعَالٰی اَجر نہیں دیتا
	٭… اس کی دعا آسمانوں کی طرف بلند نہیں ہوتی
	٭… نیکوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
	اورجو مصائب اسے موت کے وقت درپیش ہوں گے وہ یہ ہیں کہ 
	٭…وہ ذلیل ہوکر مرے گا
	٭… بھوکا مرے گا اور
	٭… پیاسا مرے گا، اگر اسے دنیا کے تمام سمندر پلادیئے جائیں تو بھی اس کی پیاس نہیں بجھے گی۔
	قبر کے مصائب یہ ہیں کہ
	٭… قبر اس پر تنگ ہوگی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی
	٭…اس کی قبر میں آگ بھڑکائی جائے گی جس کے انگاروں پر وہ رات دن لوٹتا رہے گا
	٭… اس کی قبر میں ایک اَژدہا مقرر کردیا جائے گا جس کا نام شُجاعِ اَقْرَع یعنی گنجا سانپ ہوگا (1)اس کی آنکھیں آگ کی ہوں گی اور اس کے ناخن لوہے کے ہوں گے جن کی لمبائی ایک دن کے سفر کے برابر ہوگی، وہ کڑک دار بجلی جیسی آواز میں میت سے ہمکلام ہوگا اور کہے گا: میں گنجا اَژدھا ہوں ، میرے ربّ نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے نمازوں کے ضیاع کے بدلے صبح سے شام تک ڈستا رہوں ، صبح کی نماز کے لئے سورج نکلنے تک، نمازِ ظہر کے ضائع کرنے پر تجھے ظہر سے عصر تک، عصر کی نماز کے لئے مغرب تک، مغرب کی نماز کے ضیاع پر عشاء تک اور نمازِ عشاء کے ضائع کرنے کی وجہ سے تجھے صبح تک ڈستا رہوں ، اور جب وہ اسے ڈسے گا وہ ستر ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا اور قیامت تک اسی طرح اس کو عذاب ہوتا رہے گا،
	اور جو مصائب اسے قبر سے نکلتے ہوئے حشر کے میدان میں جھیلنے ہوں گے وہ یہ ہیں :
	٭… سخت حساب 	٭…اللہ کی ناراضگی اور 	٭…جہنم میں داخلہ ۔
	ایک روایت میں ہے کہ وہ قیامت میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یہاں عبارت یوں تھی:جس کا نام شُجاع یعنی گنجا ہوگا،جبکہ مکاشفۃ القلوب (عربی) میں یوں ہے:’’ یسلط علیہ فی قبرہ ثعبان اسمہ الشجاع الاقرع‘‘،  لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں تصحیح کردی ہے۔علمیہ