Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
367 - 676
	ذہبی کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب بندہ اول وقت میں نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز آسمانوں کی طرف جاتی ہے اور وہ نورانی شکل میں ہوتی ہے یہاں تک کہ عرشِ الٰہی تک جاپہنچتی ہے اور نمازی کے لیے قیامت تک دعا کرتی رہتی ہے کہ اللہ تیری حفاظت فرمائے جیسے تو نے میری حفاظت کی ہے اور جب آدمی بے وقت نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز سیاہ شکل میں اوپر آسمانوں کی طرف چڑھتی ہے۔ جب وہ آسمان تک پہنچتی ہے تو اسے بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر پڑھنے والے کے منہ پر مارا جاتا ہے۔(1)
	ابو داؤد کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تَعَالٰی جن کی نماز اور ذکر قبول نہیں کرتا، ان میں سے ایک وہ ہے جو وقت گزر جانے کے بعد نماز پڑھتا ہے۔(2)
	بعض علماء کا کہنا ہے: حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے اسے اللہ تَعَالٰی پانچ چیزوں سے سرفراز فرماتا ہے:
	٭… اس سے تنگدستی ختم کردی جاتی ہے		٭… اسے عذابِ قبر نہیں ہوگا
	٭… نامۂ اَعمال اسے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا		٭… پل صراط پر بجلی کی طرح گزرے گا اور
	٭… جنت میں بلا حساب داخل ہوگا۔(3)
نماز میں سُستی پرمصائب :
	جو شخص نمازوں میں سستی کرتا ہے اللہ تَعَالٰی اسے پندرہ مصائب میں مبتلا کرتا ہے: پانچ دنیا میں ، تین موت کے وقت ، تین قبر میں اور تین قبر سے نکلتے وقت۔
	دنیاوی مصائب یہ ہیں کہ
	٭…اس کی عمر سے برکت چھین لی جاتی ہے
	٭… اس کے چہرے سے صالحین کی نشانی مٹ جاتی ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ الرابعۃ فی ترک الصلاۃ ، ص۲۲
2…ابوداود، کتاب الصلاۃ، باب الرجل یؤم القوم۔۔۔الخ،۱/۲۴۳، الحدیث ۵۹۳
3…