Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
363 - 676
	آپ نے فرمایا: تب میں نے دیکھا، ایک سفید پانی کی نہر بہہ رہی تھی، وہ لوگ نہر کی طرف چل دیئے، جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا ان کی بدصورتی زائل ہوچکی تھی اور وہ انتہائی خوبصورت بن گئے تھے۔
	مجھ سے ان دو فرشتوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے، آپ نے فرمایا: پھر میں نے نگاہ اٹھا کر اوپر دیکھا تو مجھے سفید بادل کی طرح ایک محل نظر آیا۔ اُنہوں نے مجھے کہا: یہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا:اللہ تَعَالٰی تمہیں برکتوں سے نوازے، مجھ کو اجازت دو تاکہ میں اس میں داخل ہوں ، انہوں نے کہا: ابھی نہیں لیکن جائیں گے آپ ہی!پھر میں نے ان سے کہا: آج رات میں نے بہت سے عجائب دیکھے ہیں ، یہ جو کچھ میں نے دیکھا، کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم ابھی آپ کو بتلاتے ہیں : 
	پہلے جس آدمی کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر پتھر سے کچلا جارہا ہے، وہ ایسا شخص ہے جو قرآنِ مجید پڑھ کر اس پر عمل نہیں کرتا اور فرض نمازوں سے سوجاتا ہے، ادا نہیں کرتا، وہ آدمی جس کی باچھیں اور نتھنے اور آنکھیں سنسی سے گدی کی طرف موڑی جارہی ہیں ، وہ ایسا آدمی ہے جو جھوٹ گھڑتا ہے اور جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے اور آپ نے تنور جیسی عمارت میں جو ننگے مرد اور عورتیں دیکھی ہیں وہ زانی مرد وزانیہ عورتیں ہیں اور جس آدمی کو آپ نے خون کی نہر میں تیرتے اور پتھر کھاتے دیکھا ہے وہ سود خور ہے اور جس آدمی کو آپ نے آگ بھڑکاتے اور اس کے گردگھومتے دیکھا ہے وہ مالک ہے جو جہنم کا داروغہ ہے۔ آپ نے جس طویل آدمی کو باغ میں دیکھا ہے وہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں اوران کے اردگرد جو بچے تھے وہ ایسے بچے ہیں جو بچپن ہی میں دین فطرت پر فوت ہوئے ہیں ۔ 
	بعض مسلمانوں نے پوچھا: یارسول اللہ! مشرکوں کے ننھے منّے فوت ہو جانے والے بچے بھی وہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ 
	اور جس جماعت کے لوگوں کا آپ نے ایک پہلو خوبصورت اور دوسرا پہلو بدصورت دیکھا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں نیکیاں برائیاں دونوں ساتھ لاتے ہیں اور اللہ تَعَالٰی ان کی غلطیوں سے درگزر فرماتاہے۔(1)
	بزاز کی روایت میں اس طرح ہے کہ پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایسی قوم پر تشریف لائے جن کے سَر پتھر سے پھوڑے جارہے تھے، جب وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے تو پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتے اور یہی عذاب انہیں برابر دیا جارہا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری ،کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا۔۔۔الخ ، ۴/۴۲۵، الحدیث ۷۰۴۷